لَو پر اشعار
عشق اور عشق کے جذبے
پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
-
موضوعات : روماناور 6 مزید
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
-
موضوعات : عشقاور 5 مزید
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں ایک نرم سی دوہری کیفیت ہے: یاد نہ آنا اور بھول جانا ایک بات نہیں۔ کہنے والا اعتراف کرتا ہے کہ مدتوں خیال نہیں آیا، مگر رشتہ دل سے کٹا نہیں۔ غیاب اور بےحسی کے باوجود محبت کی ہلکی سی ڈور باقی رہتی ہے۔
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
-
موضوعات : بے خودیاور 7 مزید
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
-
موضوعات : روماناور 2 مزید
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
-
موضوعات : جدائیاور 1 مزید
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
-
موضوعات : عشقاور 5 مزید
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
-
موضوعات : جدائیاور 4 مزید
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
-
موضوعات : روماناور 3 مزید
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 4 مزید
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
-
موضوعات : خوشیاور 3 مزید
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
-
موضوع : یاد
اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو
تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔
-
موضوعات : درداور 2 مزید
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا
وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا
-
موضوعات : جدائیاور 3 مزید
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
-
موضوعات : جدائیاور 2 مزید
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
-
موضوعات : جگجیت سنگھاور 5 مزید
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
-
موضوعات : روماناور 3 مزید
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
-
موضوعات : امیداور 2 مزید
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں صبر اور بے تابی کی ٹکر دکھائی گئی ہے: عشق صبر مانگتا ہے لیکن تمنا انتظار نہیں کر سکتی۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کشمکش میں دل کا ٹھہراؤ کیسے بنے، جب تک اندر کی تکلیف خونِ جگر کی صورت نہ اختیار کر لے۔ خونِ جگر یہاں انتہائی گہری، جان گُھلانے والی اذیت کا استعارہ ہے۔
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
-
موضوعات : آرزواور 4 مزید
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
-
موضوع : فاصلہ
آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں
-
موضوعات : روماناور 5 مزید
پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا
کتنا آسان تھا علاج مرا
-
موضوعات : روماناور 1 مزید
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
-
موضوعات : جدائیاور 3 مزید