بے پئے جھومنے والے اور رندِ خراباتی: ریاض خیر آبادی اور جگر مراد آبادی کی سرمستی
ریاض خیر آبادی نے بغیر پیے جوانی اور عشق کی مستی کو شراب کے پردے میں پیش کیا، جبکہ جگر مراد آبادی کی خمریات ان کی اپنی رندانہ زندگی کا سچا عکس ہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
ریاض خیر آبادی نے بغیر پیے جوانی اور عشق کی مستی کو شراب کے پردے میں پیش کیا، جبکہ جگر مراد آبادی کی خمریات ان کی اپنی رندانہ زندگی کا سچا عکس ہیں۔