Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انتظار پر اشعار

انتظار کی کیفیت زندگی

کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

میں مانتا ہوں کہ میں تیری زیارت کے لائق نہیں۔

لیکن میرا شوق اور میرا مسلسل انتظار تو دیکھ۔

شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔

علامہ اقبال

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

محبوب سے ملنا اور وصل نصیب ہونا ہماری تقدیر میں لکھا ہی نہیں تھا۔

اگر ہم مزید زندگی پاتے تو بھی نتیجہ یہی نکلتا کہ ہم صرف انتظار ہی کرتے رہتے۔

غالبؔ یہاں مایوسی کے بجائے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدائی اٹل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہونے کا کوئی غم نہیں، کیونکہ اگر عمر لمبی بھی ہوتی تو وصال تو پھر بھی نہ ہوتا، بس انتظار کی اذیت طویل ہو جاتی۔ گویا موت نے انہیں طویل انتظار کے کرب سے بچا لیا۔

مرزا غالب

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

فرحت احساس

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے

شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے

فیض احمد فیض

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

Rekhta AI Explanation

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔

شفق سوپوری

فیض احمد فیض

تیرے آنے کی کیا امید مگر

کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں

تمہارے آنے کی کوئی خاص امید تو نہیں رہی۔

لیکن میں یہ کیسے کہہ دوں کہ میں انتظار نہیں کر رہا؟

اس شعر میں عقل کی نااُمیدی اور دل کی وابستگی آمنے سامنے ہے۔ آنے کی توقع کم ہونے کے باوجود انتظار ختم نہیں ہوتا، کیونکہ محبت میں امید مر بھی جائے تو چاہت جاگتی رہتی ہے۔ یہی داخلی کشمکش اس شعر کا جذباتی مرکز ہے۔

فراق گورکھپوری

نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید

مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا

نہ تم نے کوئی وعدہ کیا، نہ کوئی یقین دلایا، نہ امید باقی چھوڑی۔

پھر بھی مجھے تمہارا انتظار ہی کرتے رہنا تھا۔

اس شعر میں عاشق کی بےبسی اور وابستگی نمایاں ہے: محبوب کی طرف سے نہ وعدہ ہے نہ یقین، امید بھی نہیں، پھر بھی دل کی مجبوری اسے انتظار پر قائم رکھتی ہے۔ پہلی مصرع میں نفی کی تکرار محرومی کو گہرا کرتی ہے، اور دوسری میں “کرنا تھا” انتظار کو تقدیر جیسا بنا دیتا ہے۔

فراق گورکھپوری

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

منیر نیازی

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

فیض احمد فیض

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

پروین شاکر

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

مجھے یہ کیوں کہا گیا کہ بہشت کے باغ سے نکل کر سفر پر چلا جاؤں؟

دنیا کا کام بہت لمبا ہے، اب تم میرا انتظار کرنا۔

شاعر بہشت کی آسودگی سے دور کیے جانے پر سوال اٹھاتا ہے اور اسے انسانی زندگی کی جدوجہد و ذمہ داریوں کا استعارہ بناتا ہے۔ سفر یہاں مقصدِ حیات اور مشن کی علامت ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ محبوب/اصل وطن کو تسلی دیتا ہے کہ دنیا کا کام دراز ہے مگر واپسی ضرور ہوگی۔ کیفیت میں ہجر کی تڑپ بھی ہے اور فرض نبھانے کا عزم بھی۔

علامہ اقبال

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا

ساقی فاروقی

میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر

سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا

ساحل سحری نینیتالی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

میں نے عجب حرکت کی کہ تمہارے وعدے پر یقین کر لیا۔

پوری رات میں ایسے بیٹھا رہا جیسے قیامت آنے والی ہو۔

شاعر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ محبوب کے وعدے پر اعتبار کرنا ہی غضب تھا۔ رات بھر کا انتظار اتنا طویل اور کربناک محسوس ہوتا ہے کہ اسے “قیامت” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں قیامت ٹوٹے ہوئے وعدے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور دل کی تباہی کی علامت ہے۔

داغؔ دہلوی

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

فیض احمد فیض

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

فرحت احساس

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثار اختر

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے

گلزار

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

اسرار الحق مجاز

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

بےخودی کی حالت میں ہمیں خود معلوم نہیں کہ ہم کہاں جا پہنچے۔

ہماری اپنی ذات کو بہت دیر سے ہمارا انتظار پڑا ہے۔

اس شعر میں بےخودی کو ایسی کیفیت بنایا گیا ہے جو انسان کو خود سے دور لے جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے بچھڑ گیا ہے، یہاں تک کہ “اپنا” یعنی اپنی ہی ذات کہیں الگ کھڑی انتظار کر رہی ہے۔ یہ اندرونی اجنبیت، پچھتاوا اور کھو جانے کا دکھ بیان کرتا ہے۔ اصل درد یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ہی پاس دیر سے لوٹتا ہے۔

میر تقی میر

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا

کیف بھوپالی

میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

احمد ندیم قاسمی

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی

کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا

مجروح سلطانپوری

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں

ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

میں نے تمہارے انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دی۔

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ ایک رات بھی نہیں کٹی۔

شعر میں وقت کے دو پیمانے—عمر اور رات—کے ذریعے محبت کی شدت دکھائی گئی ہے۔ محبوب کے انتظار میں عمر بھی آسانی سے گزر جاتی ہے، مگر بعض صحبتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ایک رات بھی بھاری لگتی ہے۔ یہ تقابل وفاداری اور دل کی پسند و ناپسند دونوں کو نمایاں کرتا ہے۔

فراق گورکھپوری

آپ کا اعتبار کون کرے

روز کا انتظار کون کرے

اب آپ کی بات پر بھلا کون یقین کرے؟

ہر روز آپ کے آنے کی آس کون باندھے؟

شاعر محبوب کی بار بار کی بےوفائی یا ٹال مٹول سے تنگ آ کر سوال اٹھاتا ہے کہ اب اعتبار کیسے رہے۔ دوسرا مصرع روزانہ کے انتظار کو ایک تھکادینے والی رسم بنا دیتا ہے۔ یہاں انتظار، امید کی علامت ہے اور اعتبار، رشتے کی بنیاد—دونوں کمزور پڑ چکے ہیں۔ لہجہ شکوے اور مایوسی سے بھرا ہوا ہے۔

داغؔ دہلوی

کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف

کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری

حسرتؔ جے پوری

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

زہرا نگاہ

ہمیں بھی آج ہی کرنا تھا انتظار اس کا

اسے بھی آج ہی سب وعدے بھول جانے تھے

آشفتہ چنگیزی

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھے

خمار بارہ بنکوی

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم

جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم

راسخ عظیم آبادی

کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگر

جب آئی شام ترا انتظار کرنے لگے

وسیم بریلوی

تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو

تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

منور رانا

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

تنہائی کی چیخ و پکار اور میری سخت جانی کا حال مت پوچھو۔

میرے لیے صبح گزار کر شام تک پہنچنا بھی جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔

اس شعر میں تنہائی کو ایسا عذاب دکھایا گیا ہے جو انسان سے مسلسل برداشت مانگتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس یکجائی میں جینا ایک شوریدہ باطنی کشمکش ہے، اور وقت کا گزرنا بھی معمولی نہیں رہتا۔ صبح سے شام تک کا سفر بھی محال کام بن جاتا ہے، اسی لیے “جوئے شیر” کی تمثیل لائی گئی ہے۔

مرزا غالب

جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں

اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے

جاوید نسیمی

بارہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

پروین شاکر

کوئی آیا نہ آئے گا لیکن

کیا کریں گر نہ انتظار کریں

کوئی نہیں آیا، اور لگتا ہے کہ اب کوئی آئے گا بھی نہیں۔

مگر اگر انتظار کیے بغیر رہا نہ جائے تو پھر کیا کریں؟

اس شعر میں یقین اور مجبوری آمنے سامنے ہیں: دل جانتا ہے کہ اب آمد نہیں، پھر بھی انتظار چھوٹتا نہیں۔ انتظار یہاں محبت کی عادت اور دل کی ضرورت بن جاتا ہے، عقل کی تدبیر نہیں۔ مرکزی احساس بےبسی ہے، جس میں ٹوٹی ہوئی امید بھی کسی نہ کسی شکل میں سانس لیتی رہتی ہے۔

فراق گورکھپوری

مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیال

حیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

ہے خوشی انتظار کی ہر دم

میں یہ کیوں پوچھوں کب ملیں گے آپ

نظام رامپوری

قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول

کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

جلیل مانک پوری

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر

آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

تاکہ پھر مجھے انتظار کی وجہ سے ساری عمر نیند نہ آئے۔

وہ جو خواب میں آئے تھے، دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔

شاعر ایک لطیف نکتہ بیان کرتا ہے کہ محبوب خواب میں آیا اور جاتے ہوئے دوبارہ آنے کا وعدہ کر گیا۔ یہ وعدہ دراصل ایک چال ہے کیونکہ اب شاعر دوبارہ ملنے کے شوق اور انتظار میں جاگتا رہے گا۔ جب نیند ہی نہیں آئے گی تو خواب کیسے آئے گا اور محبوب سے دوبارہ ملاقات کیسے ہوگی؟

مرزا غالب

موت کا انتظار باقی ہے

آپ کا انتظار تھا نہ رہا

فانی بدایونی

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

ثاقب لکھنوی

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

حفیظ ہوشیارپوری

یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی

اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے

ارشد عبد الحمید

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں

ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

تاباں عبد الحی

دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے

اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

اطہر نفیس

مرنے کے وقت بھی مری آنکھیں کھلی رہیں

عادت جو پڑ گئی تھی ترے انتظار کی

نامعلوم
بولیے