بہادر شاہ ظفر کے اشعار
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
ظفر کہتے ہیں: اسے آدمی مت سمجھو، چاہے وہ کتنا ہی سمجھ دار اور ذہین ہو۔
جو عیش میں خدا کو بھول جائے اور غصّے میں خدا کا خوف نہ رکھے۔
اس شعر میں انسان کی پہچان عقل سے نہیں بلکہ اخلاق اور خدا آگاہی سے بتائی گئی ہے۔ آسائش میں یادِ خدا شکر اور عاجزی کی علامت ہے، اور طیش میں خوفِ خدا ضبطِ نفس اور انصاف کی ضمانت۔ جو دونوں حالوں میں خدا کو بھولے، اس کی سمجھ بوجھ بے اثر اور اس کا کردار کھوکھلا رہ جاتا ہے۔
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
جب مجھے اپنے حال کی خبر نہ تھی تو میں دوسروں کے عیب و ہنر ہی دیکھتا رہتا تھا۔
جب اپنی برائیوں پر نظر پڑی تو پھر میری نگاہ میں کوئی بھی برا نہ رہا۔
شعر کا مرکزی خیال محاسبۂ نفس ہے: اپنی کیفیت سے بے خبری انسان کو دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے والا بنا دیتی ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی کوتاہیوں کو دیکھتا ہے تو اس میں انکساری آتی ہے اور عیب جوئی کا زہر کم ہو جاتا ہے۔ یوں نگاہ نرم ہو جاتی ہے اور دوسروں کے لیے دل میں گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
کسی کے دل کو لبھانے کی کیا ضرورت ہے، اور کوئی اپنے دل کو کسی سے کیوں جوڑے؟
جو لوگ دل کا علاج بیچتے تھے، وہ اپنی دکان سمیٹ کر آگے نکل گئے۔
بہادر شاہ ظفر کے یہاں عشق سے پیدا ہونے والی مایوسی نمایاں ہے۔ پہلے مصرعے میں وہ دل لگانے اور دل لبھانے کی کوشش کو بے معنی ٹھہراتے ہیں، گویا انجام ہمیشہ دکھ ہے۔ دوسرے مصرعے میں “دوائےِ دل” بیچنے والے تسلی دینے والوں یا امید کے استعارے ہیں جو اب ساتھ نہیں رہے۔ نتیجتاً لہجہ ترکِ تعلق اور بے بسی کا ہے۔
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خدا کے واسطے زاہد اٹھا پردہ نہ کعبہ کا
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
-
موضوع : مشہور اشعار
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
حال دل کیوں کر کریں اپنا بیاں اچھی طرح
روبرو ان کے نہیں چلتی زباں اچھی طرح
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا
وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا
ہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤ
کہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
میں اپنے عشق کو روشن کر کے دکھاتا ہوں، تم اپنے حسن کو جگمگا کر دکھاؤ۔
تاکہ ہمیں دیکھ کر سارا عالم حیران رہ جائے، اور یہ حیرت مجھے بھی ہو، تمہیں بھی ہو۔
اس شعر میں عاشق محبوب سے کہتا ہے کہ آؤ عشق اور حسن دونوں اپنی پوری آب و تاب سے نمایاں کریں۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی دلکشی اور سچّا جذبہ ایسا اثر ڈالے کہ دنیا دنگ رہ جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ اس جلوے کی حیرت و سرشاری دونوں کے دل میں یکساں اترے۔
دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ
بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی
اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے
دلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی
ہم ہی ان کو بام پہ لائے اور ہمیں محروم رہے
پردہ ہمارے نام سے اٹھا آنکھ لڑائی لوگوں نے
میں ہی انہیں بام تک لے گیا، مگر آخر میں محرومی میرے حصے میں آئی۔
جوں ہی میرے نام کی اوٹ ہٹی، لوگوں نے انہیں دیکھ کر آنکھیں لڑانی شروع کر دیں۔
شاعر اس تلخ ستم ظریفی کا شکوہ کرتا ہے کہ جسے اس نے مقام و نمائش تک پہنچایا، اسی سے وہ خود محروم رہ گیا۔ بام یہاں بلندی اور سب کی نظر میں آنے کا استعارہ ہے، اور پردہ اٹھنا اس بات کی علامت کہ راز کھل گیا۔ نام سامنے آتے ہی لوگ بے باک ہو گئے اور محبوب پر نظریں ڈالنے لگے، یوں عاشق کی محبت رسوائی بن گئی۔ جذبہ بنیادی طور پر شکستہ دلی، ناقدری اور ذلت کا ہے۔
محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو
بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی
تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گا
شمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گا
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دل کو دل سے راہ ہے تو جس طرح سے ہم تجھے
یاد کرتے ہیں کرے یوں ہی ہمیں بھی یاد تو
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
مرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل
بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج
عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا
دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
میرے سرخ لہو سے چمکی کتنے ہاتھوں میں مہندی
شہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگوں نے
میرے سرخ خون سے بہت سے لوگوں کے ہاتھوں کی مہندی اور زیادہ نمایاں ہو گئی۔
شہر میں جس دن مجھے قتل کیا گیا، لوگوں نے اسے عید کی طرح منایا۔
شاعر اپنے لہو کو دوسروں کی آرائش اور خوشی کی علامت بنا کر سماج کی بے حسی دکھاتا ہے۔ مہندی عام طور پر مسرت کی نشانی ہے، مگر یہاں وہ خون سے چمک رہی ہے، یعنی کئی لوگ اس قتل سے فائدہ اٹھا کر خوش ہوئے۔ دوسرے مصرعے میں المیہ اور بڑھ جاتا ہے کہ موت کو تہوار بنا دیا گیا۔ مرکزی احساس دغا، ظلم اور اجتماعی ریاکاری کا کرب ہے۔
لوگوں کا احسان ہے مجھ پر اور ترا میں شکر گزار
تیر نظر سے تم نے مارا لاش اٹھائی لوگوں نے
مجھے لوگوں کی مہربانی کا بھی لحاظ ہے، اور میں تمہارا بھی شکر گزار ہوں۔
تم نے اپنی نظر کے تیر سے مجھے مار ڈالا، پھر میری لاش لوگوں نے اٹھائی۔
یہاں “تیرِ نظر” محبوب کی نگاہ کی کاری چوٹ کا استعارہ ہے جو عاشق کو اندر سے مار دیتی ہے۔ طنز یہ ہے کہ قاتل بھی محبوب ہے اور شکرگزاری بھی اسی کے نام—جبکہ رسمی ہمدردی کا کام لوگ کرتے ہیں جو لاش اٹھا لیتے ہیں۔ شعر محبت کی بے بسی اور سماجی رسموں کی کھوکھلی دلجوئی کو ایک ساتھ دکھاتا ہے۔
برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکن
کسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال
نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں
نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد
میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہو گیا جس دن سے اپنے دل پر اس کو اختیار
اختیار اپنا گیا بے اختیاری رہ گئی
کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر
جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تمنا ہے یہ دل میں جب تلک ہے دم میں دم اپنے
ظفرؔ منہ سے ہمارے نام اس کا دم بہ دم نکلے
میرے دل میں یہ آرزو ہے کہ جب تک میرے اندر سانس باقی ہے۔
ظفرؔ، ہمارے منہ سے اُس کا نام ہر سانس کے ساتھ بار بار نکلتا رہے۔
شعر میں شاعر اپنی پُرثبات تمنا بیان کرتا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک محبوب کا ذکر زبان پر رہے۔ “دم” زندگی کی علامت ہے اور “دم بہ دم” مسلسل تکرار کا استعارہ، جیسے ہر سانس کے ساتھ نام نکل رہا ہو۔ اس میں عشق کی یکسوئی اور یاد کی عبادت جیسی کیفیت جھلکتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کیا تاب کیا مجال ہماری کہ بوسہ لیں
لب کو تمہارے لب سے ملا کر کہے بغیر
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیس
کیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھا
میں درد سے سسکتا ہی رہ گیا، جبکہ فرہاد اور قیس مر گئے۔
کیا موت صرف انہی دونوں کے نصیب میں تھی، میرے نصیب میں نہیں؟
شاعر اپنی دیرپا تکلیف کو فرہاد اور قیس جیسے عشاق کی موت کے مقابل رکھ کر حسرت اور تلخی ظاہر کرتا ہے۔ اسے یوں لگتا ہے کہ اُنہیں تو محبت کی انتہا پر موت کی رہائی مل گئی، اور وہ خود زندہ رہ کر اذیت بھگت رہا ہے۔ قضا یہاں تقدیر کی ناانصافی کی علامت بن جاتی ہے۔ اس شعر کا مرکزِ احساس بے بسی اور نجات کی آرزو ہے۔
یار تھا گلزار تھا باد صبا تھی میں نہ تھا
لائق پابوس جاناں کیا حنا تھی میں نہ تھا
بنایا اے ظفرؔ خالق نے کب انسان سے بہتر
ملک کو دیو کو جن کو پری کو حور و غلماں کو
ہمدمو دل کے لگانے میں کہو لگتا ہے کیا
پر چھڑانا اس کا مشکل ہے لگانا سہل ہے
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
غضب ہے کہ دل میں تو رکھو کدورت
کرو منہ پہ ہم سے صفائی کی باتیں
روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جا کہیو میرا نسیم سحر
مرا چین گیا مری نیند گئی
لڑا کر آنکھ اس سے ہم نے دشمن کر لیا اپنا
نگہ کو ناز کو انداز کو ابرو کو مژگاں کو
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
خوشی ہو اس میں یا ہو غم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
مجھے ایسی محبت چاہیے جو باہمی ہو، مجھے بھی ملے اور تمہیں بھی ملے۔
اس محبت میں خوشی آئے یا غم، دونوں صورتوں میں وہ حصہ ہمیں بھی ہو اور تمہیں بھی ہو۔
بہادر شاہ ظفر اس شعر میں یکطرفہ چاہت کے بجائے باہمی محبت کی خواہش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رشتہ تبھی سچا ہے جب اس کی کیفیات دونوں پر برابر گزریں—خوشی بھی مشترک ہو اور غم بھی۔ اصل جذبہ ساتھ نبھانے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر شریک ہونے کا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے
میں اپنے دل میں جتنی خواہشیں ہیں، سب کو مٹا دینے پر تیار ہوں۔
اگر مجھے یہ پتا چل جائے کہ اس کی خواہش کچھ اور ہے۔
شاعر اپنی ذات کی ہر آرزو قربان کرنے کا عزم دکھاتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ محبوب کی اصل چاہت معلوم ہو جائے۔ دل یہاں خواہشوں کا مرکز ہے اور “مٹا دینا” نفس پر قابو اور ایثار کی علامت ہے۔ مرکزی کیفیت محبت کی وفاداری کے ساتھ ایک بے چینی ہے کہ محبوب آخر چاہتا کیا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ
گھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ
فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست
اب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ کچھ ہم ہنس کے سیکھے ہیں نہ کچھ ہم رو کے سیکھے ہیں
جو کچھ تھوڑا سا سیکھے ہیں تمہارے ہو کے سیکھے ہیں
نہ ہنسی سے ہمیں کوئی سبق ملا، نہ رونے سے کچھ سمجھ آئی۔
جو تھوڑی بہت سمجھ بنی، وہ تمہارا ہو کر ہی بنی۔
شاعر کہتا ہے کہ محض خوشی یا غم کے جذبے اپنے آپ میں سکھا نہیں دیتے۔ اصل سیکھ تب ہوئی جب اس نے خود کو محبوب کے حوالے کیا اور وابستگی میں اپنی انا کو نرم کیا۔ یہاں ‘تمہارا ہو جانا’ عشق کی تربیت اور اندرونی تبدیلی کی علامت ہے۔ لہجہ انکساری کا ہے کہ جو کچھ بھی سیکھا، اسی نسبت سے سیکھا۔