تخلیقی زبان کے عناصر: تشبیہ، استعارہ اور پیکر کی تفہیم
شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی شعور کی روشنی میں تخلیقی زبان کے بنیادی عناصر،تشبیہ، استعارہ اور پیکر، کا تجزیہ اور ان کی تفہیم۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی شعور کی روشنی میں تخلیقی زبان کے بنیادی عناصر،تشبیہ، استعارہ اور پیکر، کا تجزیہ اور ان کی تفہیم۔
یہ مضمون علامہ اقبال کی شاعری میں صوتیاتی آہنگ، خاص طور پر صفیری (Sibilants) اور مسلسل (Continuants) آوازوں کے کثرت سے استعمال اور ان سے پیدا ہونے والی فضا سازی کا تجزیہ کرتا ہے۔
اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اردو کی بھاری بھرکم ہکار (Aspirated) اور معکوسی (Retroflex) آوازوں کا استعمال کس قدر کم کیا ہے اور اس سے ان کے شعری اسلوب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
تخیل محض خیالات تک محدود نہیں بلکہ یہ الفاظ اور معلومات کو ایک نئی اور حیرت انگیز ترتیب دے کر پیش کرتا ہے، جس کی بہترین مثالیں مرزا غالب کے کلام میں ملتی ہیں۔
فصاحت محض انفرادی الفاظ کی خوبصورتی کا نام نہیں، بلکہ یہ الفاظ کے اس صوتی اور معنوی تناسب کا نام ہے جو کلام کو ایک دلکش نغمہ بنا دیتا ہے۔
محمد حسین آزاد کی پھیلائی ہوئی اس غلط فہمی کا ازالہ کہ میر تقی میر ایک دنیا بیزار اور گوشہ نشین شاعر تھے، اور ان کے کلام کی روشنی میں ان کی سماجی وابستگی کا ثبوت۔
یہ مضمون فیض کی شاعری میں رات، چاندنی، اور تنہائی کی منظر کشی کا تجزیہ کرتا ہے، جو ان کے کلام میں ایک مخصوص اور شدید جمالیاتی فضا تخلیق کرتی ہے۔
غزل محض ایک صنفِ سخن نہیں بلکہ ذات کے حوالے سے پوری کائنات کو سمیٹنے والا اشاروں کا ایک ایسا فن ہے جو بڑی بڑی داستانوں کو دو مصرعوں میں بیان کر دیتا ہے۔
میر تقی میر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عام بول چال اور روزمرہ کی زبان کو استعارے اور رعایت کے ذریعے عظیم شاعری کی زبان میں بدل دیا۔
میر تقی میر کو 'خدائے سخن' کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ خطاب محض ایک تعریف نہیں ہے، بلکہ شاعری کی تمام اصناف پر میر کی مکمل مہارت کا ثبوت ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے چرکین کی شاعری پر لگے 'فحاشی' کے الزام کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے 'فحش' اور 'برازیات' (Scatology) کے درمیان واضح فرق قائم کیا ہے۔