اردو ادب میں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ میر تقی میر محض 'روزمرہ' یا عام بول چال کے شاعر ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی اس مفروضے کو سختی سے رد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اگر میر نے صرف اسی زبان پر اکتفا کیا ہوتا جو عام بول چال کی زبان ہے، تو وہ بھی مصحفی، جرأت اور یقینؔ کی طرح محض دوسرے درجے کے شاعر ہوتے۔ میر کی اصل عظمت اس بات میں ہے کہ انہوں نے روزمرہ کو شاعری کی زبان میں تبدیل کر دیا۔
پال والیری اور ڈبلیو ایچ آڈن جیسے مغربی مفکرین کے مطابق، عام زبان (Public Language) وہ ہوتی ہے جو روزمرہ کی عملی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ اس زبان میں اتنی سکت نہیں ہوتی کہ وہ تجریدی افکار (Concepts) یا نازک اور باریک جذبات (Subtle emotions) کو ادا کر سکے۔ شاعر کا اصل کام اس عام زبان سے قرض لے کر اپنی ایک نئی زبان تخلیق کرنا ہوتا ہے۔
میر کے زمانے میں اردو میں ادبی اور علمی نثر کا وجود نہیں تھا۔ ان کے سامنے زبان کے نمونے صرف شعراء کے کلام تک محدود تھے۔ میر نے اس مروجہ شعری زبان سے انحراف کیا اور روزمرہ کی بنیاد پر اپنی شاعری کی زبان تعمیر کی۔ انہوں نے اس بظاہر سادہ زبان میں استعارے، کنایے، اور مناسبتِ لفظی و معنوی (رعایت) کی ایسی پیچیدہ تہیں شامل کیں کہ وہ عظیم شاعری بن گئی۔
میر کے اس کمال کو ان کے اس شعر سے سمجھا جا سکتا ہے:
دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے
پھول میں اس باغ خوبی سے جو لوں تو لوں کہاں
بظاہر یہ شعر نہایت سادہ اور روزمرہ کی زبان میں ہے۔ لیکن اس میں استعارے اور مناسبت کا ایک حیرت انگیز جال بچھا ہوا ہے۔ 'باغِ خوبی' دنیا کا، محفل کا، یا معشوق کے جسم کا استعارہ ہو سکتا ہے۔ 'پھول' معشوق، اس کے لمس، یا معرفت کا استعارہ ہے۔ پہلے مصرعے میں 'دست، دامن، جیب، آغوش' محض الفاظ کا ڈھیر نہیں، بلکہ ان میں ایک گہری جنسی اور جذباتی مناسبت ہے۔ 'کہاں' کا لفظ بیک وقت جگہ کے لیے بھی ہے اور استفہامِ انکاری (یعنی میں نہیں لے سکتا) کے لیے بھی۔
میر نے محاوروں کو دوبارہ استعارہ بنا دیا۔ انہوں نے الفاظ کے درمیان ایسا برقی مقناطیسی دائرہ (Electro Magnetic Field) قائم کیا کہ ایک معمولی حقیقت کے چار چار پہلو بیک وقت نظر آنے لگے۔ میر کا یہ لسانی کارنامہ غالب کے کارنامے سے کسی طور کم نہیں، بلکہ اس لحاظ سے برتر ہے کہ میر کے سامنے کوئی بنے بنائے نمونے موجود نہیں تھے۔ انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور روزمرہ کی خاک سے شاعری کا سونا کشید کیا۔
