مرزا غالب نے اپنی شاعری میں بارہا مرزا عبدالقادر بیدل کی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور انہیں اپنا پیش رو قرار دیا ہے۔ غالب کے یہ اشعار اس عقیدت کے گواہ ہیں:
اسد ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگ بہار ایجادیٔ بیدل پسند آیا
مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
عصائے خضر صحرائے سخن ہے خامہ بیدل کا
ان واضح اعترافات کی بنا پر اردو تنقید میں طویل عرصے تک یہ مانا جاتا رہا کہ غالب کلیتاً بیدل کے پیروکار تھے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی اس نظریے کا تنقیدی محاکمہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ غالب کو سمجھنے کے لیے صرف بیدل کا حوالہ کافی نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ غالب نے نوعمری میں بیدل کا گہرا مطالعہ کیا تھا، لیکن ہر عظیم شاعر کی طرح وہ بھی اپنے اوائلی دور کے اثرات سے جلد ہی آزاد ہو گئے تھے۔ سب سے بڑا فرق دونوں کے مزاج کا تھا۔ بیدل کی سرشت میں ایک صوفیانہ پراسراریت تھی؛ وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک طرح کی مابعد الطبیعیات (Metaphysics) اور علمِ وجود (Ontology) کے ماہر تھے۔ اس کے برعکس، غالب ان صوفیانہ کیفیات سے بالکل خالی نظر آتے ہیں۔ غالب کے یہاں عقلیت، ہوش مندی اور دنیاوی شعور حاوی ہے۔
فاروقی صاحب استدلال کرتے ہیں کہ غالب نے بیدل سے شعر کا فن اور لفظ کو برتنے کا اسلوب ضرور سیکھا، لیکن انہوں نے اس پیچیدہ اسلوب میں اپنی ہوش مندی اور عملی فکر داخل کر دی۔ غالب نے بیدل کا اثر اس لیے قبول کیا کہ بیدل، صائب اور عرفی جیسے دیگر فارسی شعراء سے زیادہ پیچیدہ خیال تھے۔ اگر بیدل نہ ہوتے تو غالب شاید عرفی یا صائب کو اپنا استاد مان لیتے۔
جن چیزوں کو غالب 'خیالی مضامین' کہہ کر ٹال گئے ہیں، دراصل وہ اسی ہوش مندی اور عقلیت کا اظہار ہیں جو بیدل کے یہاں نہیں ملتی۔ غالب نے بیدل کے بلند آہنگ لہجے کو اپنایا ضرور، لیکن اس کی تعمیر میں ان ذہنی اور عقلی مشاہدوں کو شامل کیا جو تمام دنیاوی مسائل پر محیط تھے۔ لہٰذا، غالب کا بیدل سے رشتہ اندھی تقلید کا نہیں، بلکہ ایک عظیم تر تخلیقی استفادے کا تھا، جہاں انہوں نے بیدل کے پیالے میں اپنی عقلیت کی شراب انڈیلی۔
