اردو شاعری میں جانوروں کا ذکر عموماً یا تو تمثیل (Fable) کے طور پر ملتا ہے یا پھر انہیں محض کارآمد اشیا اور تفریح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میر تقی میر کا رویہ اس باب میں تمام اردو اور فارسی شعرا سے ممتاز ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، میر کے یہاں جانوروں کے لیے ایک گہری یک دردی (Empathy) پائی جاتی ہے۔ وہ جانوروں کو محض جانور نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں انسانی صفات، جذبات اور وقار سے متصف کرتے ہیں۔
میر کی مثنوی 'اژدر نامہ' کو عموماً ان کی بدمذاقی اور معاصرین کی ہجو قرار دیا جاتا ہے، لیکن درحقیقت اس میں جانوروں کے عادات و خواص کا نہایت باریک مشاہدہ موجود ہے۔ اسی طرح ان کی ایک اور شاہکار مثنوی 'مور نامہ' ہے، جس میں ایک مور اور ایک رانی کے عشق کی داستان بیان کی گئی ہے۔ میر اس بات کے قائل ہیں کہ جانور بھی انسانوں کی طرح عشق کے جذبے سے سرشار ہو سکتے ہیں۔ اس مثنوی میں مور کی پراسرار گمشدگی اور جنگل کے ہولناک مناظر کا بیان کمال کا ہے:
ہے عجب ماروں میں مور آکر رہے
مار بھی پھر کیسے اژدر اژدہے
نظیر اکبر آبادی نے بھی 'قصہ ہنس' اور 'ریچھ کا بچہ' جیسی نظمیں لکھی ہیں، لیکن نظیر کے یہاں جانور یا تو روح کی تمثیل ہیں یا پھر مداری کے ہاتھ میں قید تفریح کا سامان۔ ان کے یہاں وہ مربیانہ احساسِ برتری موجود ہے جو انسان کو جانور سے بالاتر سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس، میر کی مثنوی 'کپی کا بچہ' (بندر کا بچہ) میں بندر کی شوخیوں کو انسانی ڈول میں پیش کیا گیا ہے:
کیا کوئی انداز شوخی کا کہے
ہو معلق زن تو آدم تک رہے
میر کے ہم عصر مصحفی نے بھی بکری اور مینڈھے پر مثنویاں لکھیں، لیکن مصحفی کی بکری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ 'مستعد ہے برائے قربانی'۔ جبکہ میر جب اپنی مثنوی میں بکری کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی خوبصورتی، اس کے بچوں کی طاقت اور ان کے رکھ رکھاؤ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں گویا وہ ان کے خاندان کا حصہ ہوں۔ میر کا یہ روشن دلانہ رویہ اور جانوروں کے حقوق و احساسات کا اعتراف انہیں اپنے عہد سے بہت آگے کا شاعر ثابت کرتا ہے۔
