Added to your favorites
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق 'صاحبِ ذوق قاری' ایک فرضی تصور ہے جسے نقاد اپنی کم فہمی چھپانے اور مشکل شاعری کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ذوق بدلتا ہے، لیکن کلاسیکی مضامین کو محض سماجی دباؤ یا جدیدیت کی بنا پر مسترد کرنا غیر تنقیدی رویہ ہے۔
یہ مضمون اس تنقیدی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ ایک عظیم شاعر اپنے پیچھے مقلدین کا کوئی اسکول نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے فوراً بعد آنے والے شعرا اس کے اسلوب سے شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار اختیار کرتے ہیں۔
کسی بھی شعر کے تمام ممکنہ مطالب اور شاعر کے اصل عندیے تک مکمل رسائی حاصل کرنا کسی بھی قاری کے لیے ناممکن ہے۔
غالب نے جان بوجھ کر اپنے ہم عصروں اور میر تقی میر کی روایات سے ہٹ کر ایک پیچیدہ اسلوب اپنایا، جس کی بنیادی وجہ ان کی انفرادیت پسندی اور جاگیردارانہ انا تھی۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر اور غالب دونوں اردو غزل کے روایتی عاشق سے انحراف کرتے ہیں، لیکن میر کا عاشق ایک جیتا جاگتا انسان ہے جبکہ غالب کا عاشق ایک تجریدی اور مثالی پیکر ہے۔
آپ کو باقاعدگی سے کچھ حاصل کرنا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کسی بھی ای میل کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔