Added to your favorites
Subscribe to Rekhta Newsletter to get all the latest updates
حسرت موہانی نے غزل کی روایتی عشقیہ علامتوں اور رمز و ایما کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے باغیانہ اور سیاسی جذبات کا نہایت خوبصورتی سے اظہار کیا۔
یہ مضمون فراق گورکھپوری کی غزل میں ہندوستانی لہجے کی شمولیت اور خدائے سخن میر تقی میر کی کلاسیکی روایت کے احیاء پر روشنی ڈالتا ہے۔
میر تقی میر کی مثنویوں میں بارش، سردی، ٹوٹے ہوئے مکان اور گاؤں کے کتوں کی حقیقت پسندانہ اور جاندار منظر کشی کا جائزہ۔
ترقی پسند شعرا بالخصوص مجروح سلطان پوری اور فیض احمد فیض کو غزل میں سیاسی مضامین لانے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخی حقائق اس کا سہرا حسرت موہانی کے سر باندھتے ہیں۔
غزل بنیادی طور پر عشقیہ اور غنائی شاعری ہے، جس میں حسن کی ظاہری مصوری سے زیادہ عاشق کے جذبے کی سچائی، سوز و گداز اور رمز و ایما کو اہمیت حاصل ہے۔
یہ مضمون اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ کیا فیض کی سیاسی شاعری وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو دے گی، اور واضح کرتا ہے کہ ان کا جمالیاتی رچاؤ انہیں لازوال بناتا ہے۔
اس مضمون میں فراق کی شاعری پر انگریزی رومانیت اور سنسکرت کاویہ کے اثرات اور ان کے یہاں حسن و عشق کے آفاقی تصور کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اردو غزل پر فارسی کا گہرا اثر ہونے کے باوجود، یہ ہندوستانی تہذیب، موسموں، رسم و رواج اور سماجی و سیاسی کروٹوں کی ایک سچی اور رنگارنگ تصویر پیش کرتی ہے۔