اردو ادب کی تاریخ میں یہ بحث اکثر سر اٹھاتی ہے کہ غزل جیسی صنف، جو روایتی طور پر گل و بلبل اور ہجر و وصال کے قصوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، اس میں سیاسی اور سماجی شعور کو باقاعدہ طور پر کس نے متعارف کرایا؟ عام طور پر ہمارے ترقی پسند دوست اور نقاد اس کا سہرا فیض احمد فیض یا مجروح سلطان پوری کے سر باندھتے ہیں۔ خود مجروح سلطان پوری نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۵۰ء کے دور میں جب غزل دشمنی عروج پر تھی، انہوں نے پہلی بار غزل میں سیاسی اور سماجی مضامین کو کامیابی سے برتا۔
تاہم، نامور محقق اور نقاد گوپی چند نارنگ اس دعوے کو تاریخی حقائق کی روشنی میں رد کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ فیض اور مجروح نے غزل میں سیاسی رنگ کو مقبولِ عام بنایا، لیکن اس کی اولیت کا تاج بلاشبہ حسرت موہانی کے سر سجتا ہے۔ حسرت نے بیسویں صدی کی پہلی دہائی ہی میں غزل کی مخصوص اشاریت اور تہذیب کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں سامراج دشمنی اور حریت پسندی کے مضامین کو پوری شدت کے ساتھ داخل کر دیا تھا۔
حسرت موہانی نے جس وقت یہ باغیانہ شاعری کی، اس وقت غزل کا دامن ایسے موضوعات سے بڑی حد تک خالی تھا۔ نظم میں تو حالی، آزاد اور اقبال کے یہاں وطنی شعور بیدار ہو چکا تھا، لیکن غزل میں سیاسی جبر و استبداد کے خلاف احتجاج کی لے حسرت ہی کا طرۂ امتیاز ہے۔ ان کا یہ شعر اس کی واضح دلیل ہے:
رسمِ جفا کامیاب دیکھیے کب تک رہے
حبِ وطن مستِ خواب دیکھیے کب تک رہے
حسرت کے ساتھ ساتھ اس دور میں مولانا محمد علی جوہر کا نام بھی انتہائی اہم ہے، جن کی غزلوں میں بھی قیدِ فرنگ اور جذبۂ حریت کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ جوہر کا یہ شعر ضرب المثل بن چکا ہے:
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حقیقت یہ ہے کہ حسرت موہانی نے نہ صرف عاشقانہ شاعری میں 'تہذیبِ عاشقی' کو زندہ کیا بلکہ باغیانہ شاعری کو بھی اسی تہذیب کے آداب سے روشناس کرایا۔ انہوں نے غزل کے روایتی استعاروں کو ایک نئی سیاسی معنویت دی اور آنے والے شعرا، جن میں ترقی پسند بھی شامل ہیں، کے لیے ایک ایسی شاہراہ کھول دی جس پر چل کر اردو غزل نے اپنے دامن میں پورے عہد کا کرب سمیٹ لیا۔ لہٰذا، اردو غزل میں سیاسی شعور کی اولیت کا حقیقی حقدار حسرت موہانی ہی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
