اردو کی کلاسیکی شعریات میں 'ایہام' اور 'رعایت' کو ہمیشہ کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے، لیکن جدید دور کے بعض نقادوں نے مغربی اثرات اور نامکمل فہم کی بنا پر انہیں محض 'لفظی بازی گری' قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی۔ شمس الرحمن فاروقی اس رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ جس ہنر کو شیکسپیئر، حافظ، کیٹس، خاقانی اور خسرو جیسے عالمی سطح کے عبقریوں نے اپنے کلام کا حسن بنایا ہو، اسے محض بازی گری کہنا شاعری کی روح کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ رعایت اور ایہام دراصل ہمیں زبان کی لطافتوں، نزاکتوں اور معنی کے غیر متوقع پہلوؤں سے روشناس کراتے ہیں۔
ایہام کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ شاعر ایسا لفظ استعمال کرے جس کے دو معنی ہوں، ایک قریب کے اور ایک دور کے، اور شاعر کی مراد دور کے معنی ہوں۔ اس کی خالص، پیچیدہ اور مساوات جیسی مختلف قسمیں ہیں۔ دوسری طرف، رعایت کا تعلق الفاظ کے مابین معنوی علاقے کے التباس سے ہے۔ جب کلام میں ایسے الفاظ لائے جائیں جن کا آپس میں بظاہر یا باطن کوئی معنوی رشتہ ہو، تو اس سے کلام میں ایک خاص قسم کا حسن اور تہہ داری پیدا ہوتی ہے۔ فاروقی صاحب کے نزدیک، جو شخص رعایت کو نہیں سمجھتا یا اسے غیر اہم گردانتا ہے، اسے کلاسیکی شاعری پڑھنے پڑھانے کا کوئی حق نہیں۔
یہ مفروضہ بھی سراسر غلط ہے کہ میر، غالب یا انیس جیسے 'سچے' اور 'درد مند' شعرا کو صنعت گری یا رعایت سے کوئی سروکار نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اساتذہ زبان کے امکانات سے پوری طرح واقف تھے اور انہوں نے حزن و ملال کے انتہائی مواقع پر بھی اس فن کا کمال دکھایا۔ مثال کے طور پر میر انیس کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
رکھے ہوئے ہیں مشک پہ منھ پیار دیکھیے
شانے کٹے ہیں شانِ علم دار دیکھیے
اس شعر میں حضرت عباس کی شہادت کا انتہائی رقت انگیز منظر ہے، لیکن میر انیس نے 'شانے' اور 'شان' کے درمیان ایہامِ صوت اور رعایت کا جو التزام رکھا ہے، وہ ان کی فنکارانہ عظمت کی دلیل ہے۔ درد و غم کا بیان اور فنکاری کا اظہار ان کے یہاں متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں۔
اسی طرح شیکسپیئر نے 'رومیو اور جولیٹ' میں جولیٹ کی موت کی خبر ملنے اور رومیو کی خودکشی کے مناظر میں 'well', 'ill', 'fair', اور 'die' جیسے الفاظ کے ذریعے ایہام کا زبردست استعمال کیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عظیم فنکار جذبات کی شدت کو بیان کرنے کے لیے زبان کی کثیر المعنویت کا سہارا لیتے ہیں۔ ایہام اور رعایت زبان کو محض ترسیل کا ذریعہ نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے ایک کائنات میں تبدیل کر دیتے ہیں جہاں ہر لفظ اپنے اندر معانی کی ایک دنیا چھپائے ہوئے ہے۔
