فراق گورکھپوری کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ حیات و کائنات کے بھید بھرے سنگیت کی بازگشت ہے۔ ان کی عشقیہ شاعری نے اردو غزل کو ایک نئی آفاقی گونج عطا کی۔ گوپی چند نارنگ کے تجزیے کے مطابق، فراق کی جمالیاتی حس دو مختلف لیکن انتہائی زرخیز چشموں سے سیراب ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ انگریزی کے عظیم رومانی شاعروں جیسے ورڈز ورتھ، شیلی اور کیٹس سے گہرے طور پر متاثر تھے، تو دوسری طرف سنسکرت کاویہ (شاعری) کی قدیم روایت نے ان کے احساسِ جمال کو ایک خاص ہندوستانی رنگت بخشی تھی۔
فراق کا ماننا تھا کہ شاعر کے نغمے وہ ہاتھ ہیں جو رہ رہ کر آفاق کے مندر کی گھنٹیاں بجاتے ہیں۔ ان کے بنیادی موضوعات میں حسن و عشق، انسانی تعلقات کی دھوپ چھاؤں، فطرت اور جمالیات شامل ہیں۔ وہ جذبات کی تھرتھراہٹوں اور جسم و جمال کی لطافتوں کے ایسے مصور ہیں جن کی آواز میں موجود لوچ اور نرمی پوری اردو شاعری میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے یہاں حسن اداس بھی ہے اور دھواں دھواں بھی، جو زندگی کی ناپائیداری اور محبت کی کسک کو ظاہر کرتا ہے:
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
یہ نگاہ غلط انداز بھی کیا جادو ہے
دیکھنے والے ترے جی نہ سکیں مر نہ سکیں
فراق کے یہاں نشاط اور درد کی ہلکی اور گہری کیفیتیں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ ان کی شاعری میں انسانی تہذیب کی صدیاں بولتی محسوس ہوتی ہیں۔ انہوں نے اردو غزل کو فارسی کے روایتی اور بعض اوقات مصنوعی عشقیہ ماحول سے نکال کر اسے ایک ایسی فضا میں سانس لینا سکھایا جہاں فطرت، کائنات اور انسان کا باطنی حسن ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی قدیم مندر کے احاطے میں کھڑا کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
