اردو ادب میں نثری نظم کی بحث ہمیشہ سے گرما گرم رہی ہے، اور اس بحث میں شمس الرحمن فاروقی کا نام ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اکثر ادبی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ فاروقی صاحب نثری نظم کے کٹر مخالف ہیں۔ یہاں تک کہ کشور ناہید جیسی نامور شاعرات نے ان پر 'منافقت' تک کا الزام عائد کیا کہ وہ نجی محفلوں میں تو نثری نظموں کی تعریف کرتے ہیں لیکن اصولی طور پر اسے تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ تاہم، فاروقی صاحب کا اپنا تنقیدی موقف اس سے یکسر مختلف اور گہری بصیرت کا حامل ہے۔
فاروقی صاحب نے اپنے دفاع میں اپنی دہائیوں پرانی تحریروں کا حوالہ دیا ہے۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اگرچہ نثر کبھی کبھی نظم کی سی کیفیت اختیار کر سکتی ہے، لیکن نظم کبھی نثر نہیں بن سکتی۔ ان کے نزدیک نظم کی سب سے بڑی پہچان اس کی زبان اور اس کا داخلی آہنگ ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ نثری نظم میں شاعری کی بنیادی نشانیاں جیسے ابہام اور الفاظ کا جدلیاتی استعمال موجود ہوتا ہے، لیکن اسے محض 'نثری نظم' کہنا ان کے نزدیک ایک طرح کا قولِ محال (Paradox) ہے۔
ان کا موقف یہ ہے کہ بحیثیت ایک نقاد اور قاری، وہ ادب میں ہونے والے ہر نئے تجربے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ نثری نظم بھی ایک تجربہ ہے، اور اگر کوئی شاعر اچھی نثری نظم لکھتا ہے تو اس کی تحسین ہونی چاہیے۔ ایک اچھا شاعر، چاہے وہ کسی بھی ہیئت میں طبع آزمائی کرے، عموماً اچھا ہی لکھتا ہے۔ لیکن کسی انفرادی نظم کے اچھے ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ پوری صنف ادب میں ایک مستحکم مقام حاصل کر چکی ہے۔
فاروقی صاحب کا یہ تنقیدی رویہ دراصل اس بات کا غماز ہے کہ وہ اندھی تقلید یا بلاجواز جوش کے قائل نہیں۔ وہ تجربے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس تجربے کے لیے درکار تربیت، عروضی شعور اور فنی آداب پر بھی زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نثری نظم کے بارے میں ان کے جوش و خروش میں کمی کی وجوہات نظریاتی اور تاریخی ہیں، نہ کہ کوئی ذاتی تعصب۔
