جدید فکشن کی تنقید میں ایک طویل عرصے تک یہ نظریہ حاوی رہا ہے کہ افسانے یا ناول کی اصل کامیابی اس کے کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور ان کی داخلی زندگی کی عکاسی میں پوشیدہ ہے۔ اس نظریے کو پروان چڑھانے میں امریکی ناول نگار ہنری جیمس کا کردار کلیدی رہا ہے۔ جیمس کا ماننا تھا کہ ناول نگار دراصل ایک ڈراما نگار ہوتا ہے، اور جس طرح ڈرامے میں تمام واقعات کا اظہار کردار کے حوالے سے ہوتا ہے، ناول میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس نے یہاں تک کہا کہ 'کردار کیا ہے اگر وہ واقعے کی تعیین نہیں ہے؟ واقعہ کیا ہے اگر وہ کردار کی وضاحت نہیں کرتا؟'
ہنری جیمس کے اس نظریے نے بیانیہ کی ہزاروں سال پرانی روایت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اس کے زیرِ اثر ناقدین یہ سمجھنے لگے کہ واقعہ پیش ہی اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ کردار کی نقاب کشائی ہو سکے اور اس کی ذہنی آویزشوں (mental conflicts) کو ظاہر کیا جا سکے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، واقعے کو محض کردار کا اظہار تصور کرنا بیانیہ کا روایتی نظریہ نہیں ہے، بلکہ یہ نظریہ بیانیہ کی روح کا استحصال کرتا ہے۔
رابرٹ شولز اور کلاگ جیسے محققین نے اپنی کتاب 'The Nature of Narrative' میں واضح کیا ہے کہ کامیاب بیانیہ کے لیے کرداروں کی داخلی زندگی پر زور دینا قطعی ضروری نہیں ہے۔ قدیم یونانی داستانوں، سولہویں اور سترہویں صدی کے فرانسیسی قصوں، اور خود ہماری مشرقی داستانوں میں کردار کی داخلی زندگی کا عنصر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کمی کو پیچیدہ پلاٹ، محاکاتی بیان، اور صنائع بدائع سے بھرپور بدیعیات (Rhetoric) کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا۔
مشہور نقاد زوتیان ٹاڈاراف (Tzvetan Todorov) بھی ہنری جیمس کے نظریے کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ادب میں ایک پورا ناقابلِ نظرانداز رجحان موجود ہے جہاں واقعات کردار کی وضاحت کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ سارے کے سارے کردار ہی واقعات کے تابع ہوتے ہیں۔ الف لیلہ کی مثال لیجیے؛ شہرزاد کے لیے یہ اہم نہیں ہے کہ 'کس نے دیکھا' یا 'کس طرح دیکھا'، بلکہ اس کے لیے اہم یہ ہے کہ 'کیا دیکھا گیا'۔ قدیم بیانیہ کی رسم کردار نگاری نہیں، بلکہ واقعات کی کثرت تھی۔ آج کا نیا افسانہ جب کردار کو منہا کر کے واقعے پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تو وہ دراصل ہنری جیمس کی مسلط کردہ سو سالہ روایت سے بغاوت کر کے ہومر اور داستانوں کی ہزاروں سال پرانی روایت سے رشتہ جوڑ رہا ہوتا ہے۔
