جدید ادبی تنقید میں 'مصنف کی موت' کا تصور ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مشہور فرانسیسی نقاد رولاں بارت (Roland Barthes) کا کہنا ہے کہ 'متن کو اس کے باپ (یعنی خالق) کی گارنٹی کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔' اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بیانیہ یا افسانہ تخلیق پا جاتا ہے، تو اس میں مصنف کے ذاتی ادراکات، احساسات اور نظریات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مصنف اگر اپنے متن میں واپس آتا بھی ہے، تو محض ایک مہمان یا ایک کردار کی طرح۔ بیانیہ پر اصل اختیار مصنف کا نہیں، بلکہ 'راوی' (Narrator) کا ہوتا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی اردو افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے بیشتر افسانہ نگار اس 'لا شخصیت' (Impersonality) کے اصول کو نہیں اپنا سکے۔ فلوبیئر جیسے عظیم ناول نگار کی زندگی کا آدرش یہی لا شخصیت تھی، لیکن اردو میں واقعیت نگاری کے نام پر افسانہ نگار اکثر خود راوی بن کر بیٹھ جاتا ہے۔
راجندر سنگھ بیدی کے مشہور افسانے 'اپنے دکھ مجھے دے دو' کی مثال لیجیے۔ بیدی لکھتے ہیں: 'سمندر کی لہروں اور عورتوں کے خون کو راستہ بتانے والا چاند ایک کھڑکی کے راستے اندر چلا آیا تھا...' یہ منظر کشی بلاشبہ اعلیٰ درجے کی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چاند کس نے دیکھا؟ کیا یہ کردار (مدن) کا ادراک ہے یا خود بیدی کا؟ ظاہر ہے کہ سہاگ رات کے اس منظر میں چاند کو 'عورتوں کے خون کو راستہ بتانے والا' کہنا کردار کی سوچ نہیں، بلکہ مصنف کی اپنی مداخلت ہے۔ بیدی نے یہاں راوی کا لبادہ اتار کر خود افسانہ نگاری شروع کر دی ہے۔
جب افسانہ نگار خود معاملے کا شریکِ غالب بن جاتا ہے، تو افسانے اور قاری کے درمیان وہ خاموش معاہدہ کمزور پڑ جاتا ہے جس کی رو سے قاری ہر بات کو سچ مانتا ہے۔ افسانہ نگار کو درحقیقت کوئی مراعات (privilege) حاصل نہیں ہوتیں؛ یہ مراعات صرف راوی کو حاصل ہیں۔ نئے افسانہ نگاروں کے یہاں چونکہ روایتی کردار نہیں ہوتے، اس لیے جب وہ 'میں' کے صیغے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں، تو وہ کردار کا بھوت بن کر رہ جاتے ہیں۔ بیانیہ کی قدیم روایت کا تقاضا ہے کہ واقعہ خود بولے، اور مصنف کی ذات واقعے کے پیچھے مکمل طور پر غائب ہو جائے۔
