اردو ادب کے بعض حلقوں میں یہ بحث طویل عرصے سے جاری ہے کہ نئے افسانے نے روایت سے بغاوت کر کے بیانیہ کا قتل کر دیا ہے۔ ناقدین، جن میں ڈاکٹر قمر رئیس جیسے نامور محققین بھی شامل ہیں، جدیدیت پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے افسانے کو ایک 'چیستاں' یا معمہ بنا کر عام قاری سے چھین لیا ہے۔ ان کے نزدیک افسانے میں ایک خاص قسم کا 'افسوں' ہوتا ہے جو بیانیہ کی روایتی خوبیوں سے پیدا ہوتا ہے، اور جدیدیت نے اس افسوں کو توڑ دیا ہے۔ لیکن اس بحث میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر یہ 'روایت' ہے کیا؟ اور اس کے بنیاد گزار کون تھے؟
شمس الرحمن فاروقی اس نام نہاد روایت کے تصور کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہمارے ناقدین کے ذہنوں میں روایت کا تصور محض ان افسانوں تک محدود ہے جو انہوں نے اپنے تعلیمی نصاب میں پڑھے تھے۔ جب وہ 'اردو افسانے کی روایت' کی بات کرتے ہیں تو دراصل ان کی مراد پریم چند اور ان کے فوراً بعد کا بیانیہ ہوتا ہے۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس میں کردار کو واقعے پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن کیا واقعی بیانیہ کی تاریخ اتنی ہی مختصر ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جس طرزِ تحریر کو آج 'مستحکم روایت' کہا جا رہا ہے، اس کی عمر مشکل سے سو سال ہے۔ اس نام نہاد روایت کے آغاز کا سہرا امریکی ناول نگار ہنری جیمس کے سر ہے، جس نے کردار کی داخلی زندگی کو نمایاں کرنے کے لیے واقعے کو پسِ پشت ڈالنے کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے برعکس، اگر ہم بیانیہ کی اصل اور قدیم روایت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کردار کی نفسیات سے زیادہ 'واقعے' کی کثرت اور اس کی پیشکش کو اہمیت حاصل تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارا نیا افسانہ (خاص طور پر 1970 کی دہائی اور اس کے بعد کا افسانہ)، جس پر روایت شکنی کا الزام ہے، دراصل بیانیہ کی اس قدیم اور اصل روایت کے زیادہ قریب ہے۔ نئے افسانے میں کردار کی وہ روایتی اہمیت باقی نہیں رہی، بلکہ واقعہ ہی سب کچھ بن کر ابھرا ہے۔ اس میں باقاعدہ پلاٹ چاہے نہ ہو، لیکن واقعات کی کثرت اسے داستانوی اور قدیم بیانیہ کے خدوخال عطا کرتی ہے۔ لہٰذا، جدیدیت نے بیانیہ کا قتل نہیں کیا، بلکہ اسے ہنری جیمس اور پریم چند کے محدود تصورات سے نکال کر اس کی اصل، قدیم اور وسیع تر روایت سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
