کسی بھی قوم کے عروج و زوال کا اندازہ اس کے افراد کے باہمی اعتماد اور اخلاقی حالت سے لگایا جا سکتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے مضمون میں ایک نہایت ہی باریک اور چشم کشا نکتہ بیان کیا ہے کہ بدگمانی کے بظاہر مختلف نظر آنے والے اسباب دراصل ایک ہی بنیادی اصول سے جنم لیتے ہیں، اور وہ ہے 'قوم کے اخلاقی قوام کا بگڑ جانا'۔ جب کسی معاشرے میں جھوٹ، فریب، اور بے دیانتی عام ہو جائے، تو اس قوم کے افراد مجبوراً نہ صرف ساری دنیا سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی بدگمان ہو جاتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی الم ناک صورتحال ہوتی ہے جب انسان کو ہر طرف دھوکہ اور فریب ہی نظر آنے لگتا ہے۔ جب لوگ اپنے دوستوں کو بے وفا، رشتہ داروں کو دغا باز، علما کو بددیانت، اور زاہدوں کو ریاکار پاتے ہیں، تو ان کا انسانیت پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ انہیں ساری دنیا مکر و فریب کا جال معلوم ہوتی ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی فرشتہ بھی ان کے سامنے آ جائے تو وہ اس پر بھی نیک گمان نہیں کر سکتے۔ اس بے اعتباری کی سب سے خوفناک شکل وہ ہوتی ہے جب انسان خود اپنے نفس سے بدگمان ہو جاتا ہے۔
حالی اس نفسیاتی کیفیت کی بڑی عمدہ منظر کشی کرتے ہیں کہ جب معاشرے کے افراد خود جھوٹے اور مکار ہوتے ہیں، تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے بھی انہیں ویسا ہی سمجھتے ہوں گے۔ اسی احساسِ کمتری اور بے اعتباری کے باعث وہ اپنی ہر عام سی بات کو منوانے کے لیے قسموں، وعدوں اور غیر ضروری گواہوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ بغیر کسی طلب کے اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھاتے ہیں، گویا وہ خود اپنے عمل سے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی بات بغیر قسم کے اعتبار کے لائق نہیں ہے۔
اس کی ایک اور دلچسپ مگر افسوسناک مثال حالی نے ان مصنفین کی دی ہے جو حد سے زیادہ بدیہی اور مسلمہ حقائق کو ثابت کرنے کے لیے بھی غیر ضروری حوالوں، کتابوں کے ناموں، اور صفحات کے نمبروں کا انبار لگا دیتے ہیں۔ یہ دراصل ان کی علمی قابلیت سے زیادہ ان کی اندرونی بے اعتباری کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح، جب دکانداروں اور خریداروں کے درمیان، یا قوم کے رہنماؤں اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، تو کوئی بھی فلاحی یا اصلاحی کام ممکن نہیں رہتا۔ قوم کے سرگروہوں کی متواتر خیانتیں عوام کو اس قدر بدگمان کر دیتی ہیں کہ وہ کسی سچی اور دیانتدارانہ کوشش کی بھی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ یہ عام بدگمانی وہ زہر ہے جو پوری قوم کی رگوں میں سرایت کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔
