زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کی تہذیب، ثقافت اور نفسیات کا آئینہ ہوتی ہے۔ اردو اور ہندی کے رشتے کی گہرائی کا اندازہ صرف ان کی گرامر سے نہیں، بلکہ ان کے روزمرہ، محاوروں اور ضرب الامثال سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ تہذیبی سرمایہ ہے جو صدیوں کے میل جول، دکھ سکھ کی سانجھ اور مشترکہ سماجی تجربات کی بھٹی میں پک کر تیار ہوا ہے۔
اردو اور ہندی میں مرکب افعال اور محاوروں کا استعمال جس کثرت سے ہوتا ہے، دنیا کی دوسری زبانوں میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ جسم کے اعضا سے بننے والے محاورے اس کی بہترین مثال ہیں۔ صرف 'منہ' اور 'آنکھ' سے بننے والے محاوروں پر نظر ڈالیں تو دونوں زبانوں کی یکجہتی عیاں ہو جاتی ہے۔ 'منہ کی کھانا'، 'منہ پر تالا لگنا'، 'منہ توڑ جواب دینا'، 'آنکھیں بچھانا'، 'آنکھیں چار ہونا'، 'آنکھ کا تارا' اور 'آنکھ مچولی' جیسے سیکڑوں محاورے ہندو اور مسلمان، دونوں یکساں روانی سے اپنی روزمرہ گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔
ضرب الامثال (کہاوتوں) کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ کہاوتیں عوام کی دانش کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ 'جیسا دیس ویسا بھیس'، 'دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا'، 'ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات'، 'ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا'، 'جس کی لاٹھی اس کی بھینس' اور 'چور کی داڑھی میں تنکا' جیسی بے شمار کہاوتیں اردو اور ہندی کی مشترکہ میراث ہیں۔ ان میں سے کئی کہاوتیں خالص ہندستانی دیومالا اور روایات سے مستعار لی گئی ہیں، جیسے 'نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی' یا 'کہاں راجا بھوج کہاں گنگو تیلی'۔
اس کے علاوہ، اردو نے فارسی اور عربی الفاظ کو ہندی لفظوں کے ساتھ ملا کر سیکڑوں ایسے خوبصورت مرکبات بنائے جو آج دونوں زبانوں کا حصہ ہیں۔ 'ڈاک خانہ'، 'راج دربار'، 'چٹھی رساں'، 'گلاب جامن'، 'جیب کترا'، 'گھر داماد' اور 'شادی بیاہ' جیسے الفاظ اس لسانی اختلاط کی زندہ مثالیں ہیں۔
مشہور لغت نویس سید احمد دہلوی کے مطابق، اردو کے پچپن ہزار الفاظ کے سرمایے میں سے تقریباً چالیس ہزار الفاظ سنسکرت اور پراکرتوں سے آئے ہیں۔ یعنی اردو کا پچھتر فیصد (تین چوتھائی) سرمایہ ہندی کے ساتھ مشترک ہے۔ یہ غیر معمولی لسانی اشتراک اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہندوستان کی کوئی دوسری زبان ہندی سے اتنی قریب نہیں جتنی اردو ہے۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہندی کی سب سے بڑی طاقت اردو ہے، اور اردو کی سب سے بڑی طاقت ہندی۔
