شاعری، بالخصوص غزل کے فن میں بات کہنے کا انداز اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا کہ خود بات۔ علمِ بیان کی رو سے جملے کی دو بنیادی قسمیں ہوتی ہیں: 'خبریہ' اور 'انشائیہ'۔ شمس الرحمن فاروقی غزل کی تنقید کرتے ہوئے ان دونوں کے فرق اور غزل میں انشائیہ انداز کی برتری کو نہایت عمدگی سے واضح کرتے ہیں۔
'خبریہ' انداز وہ ہوتا ہے جس میں کوئی سیدھا بیان دیا جائے اور جس کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ 'آج بارش ہو رہی ہے'، تو یہ ایک خبریہ جملہ ہے۔ اس کے برعکس 'انشائیہ' انداز وہ ہوتا ہے جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم نہ لگایا جا سکے۔ اس میں سوالیہ (استفہامیہ)، تعجبیہ، یا تمنائی انداز شامل ہوتے ہیں۔
پرانے اساتذہ کا ماننا تھا کہ شاعری میں انشائیہ، خاص کر سوالیہ انداز، خبریہ انداز سے بدرجہا بہتر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوالیہ انداز شعر میں معنی کے کئی امکانات روشن کر دیتا ہے اور قاری کو غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔ احمد مشتاق کا یہ شعر اس کی بہترین مثال ہے:
اب بتائیں بھی تو کیسے دل کے بجھنے کا سبب
ہم کہ اپنے آپ سے پہلو تہی کرتے رہے
اس شعر کے پہلے مصرعے میں جو سوالیہ انداز (اب بتائیں بھی تو کیسے...) اختیار کیا گیا ہے، اس نے دوسرے مصرعے کے ساتھ مل کر معنی کی کئی پرتیں کھول دی ہیں۔ اس کے تین مختلف مطلب نکل سکتے ہیں: اول، ہم کیا وجہ بتائیں، ہم تو خود کو ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ دوم، جب ہم نے خود کو ہی فراموش کر دیا تو دل تو بجھنا ہی تھا۔ سوم، تم دل بجھنے کا سبب نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ تمہارے فہم سے بالاتر ہے۔
اگر اسی بات کو سیدھے خبریہ انداز میں کہہ دیا جاتا تو شعر سپاٹ ہو جاتا اور اس میں یہ تہہ داری پیدا نہ ہوتی۔ میر تقی میر اور مرزا غالب کے کلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہی ہے کہ ان کے یہاں انشائیہ اور استفہامیہ انداز کثرت سے ملتا ہے۔ وہ قاری کو کوئی حتمی فیصلہ سنانے کے بجائے اس کے سامنے ایک سوالیہ نشان رکھ دیتے ہیں، جس سے شعر کی تاثیر اور معنی آفرینی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
