جب ہم اردو اور ہندی کو دو الگ زبانوں کے طور پر دیکھتے ہیں، تو عموماً ہمارا دھیان ان کے رسم الخط (سکرپٹ) اور اعلیٰ سطحی لفظیات (عربی/فارسی بمقابلہ سنسکرت) پر جاتا ہے۔ لیکن اگر لسانیات کی خوردبین سے ان کی اندرونی ساخت کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی ایک ہی ہے۔ جتنا اشتراک ان دونوں کی آوازوں، صرفی و نحوی ڈھانچے اور روزمرہ میں پایا جاتا ہے، دنیا کی کسی اور دو زبانوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
سب سے پہلے آوازوں (Phonetics) پر غور کریں۔ اردو کی تقریباً چالیس آوازوں میں سے صرف چھ ایسی ہیں جو خالص فارسی یا عربی سے مستعار لی گئی ہیں (جیسے خ، غ، ز، ژ، ف، ق)۔ باقی تمام آوازیں ہندی اور اردو میں مکمل طور پر مشترک ہیں۔ خاص طور پر ہکار بندشی آوازیں (Aspirated consonants) جیسے بھ، پھ، تھ، دھ، کھ، گھ، چھ، جھ، یہ پورا سیٹ ہندی اور اردو کی جان ہے، جبکہ عربی یا فارسی میں ان کا وجود تک نہیں۔ اسی طرح معکوسی آوازیں (ٹ، ڈ، ڑ) بھی دونوں میں مشترک ہیں۔ مصوتوں (Vowels) کے معاملے میں تو صوتی ہم آہنگی سو فیصد ہے؛ دونوں کے بنیادی مصوتے دس ہیں اور ان میں رتی برابر فرق نہیں۔
نحو (Syntax) اور جملے کی ساخت کو دیکھیں تو حیرت انگیز یکسانیت نظر آتی ہے۔ 'آپ کا نام کیا ہے؟' یا 'باہر اندھیرا ہے'، یہ جملے جتنے اردو کے ہیں، اتنے ہی ہندی کے۔ جملے میں لفظوں کی ترتیب (فاعل، مفعول، فعل) بالکل ایک جیسی ہے۔
زبان کی اصل طاقت اس کے افعال (Verbs) ہوتے ہیں۔ اردو اور ہندی کا فعلی سرمایہ سارا کا سارا مشترک ہے۔ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، آنا، جانا، یہ ہزاروں افعال دونوں زبانوں میں یکساں استعمال ہوتے ہیں۔ اردو نے اپنی وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عربی فارسی الفاظ پر ہندستانی قاعدے لاگو کر کے نئے افعال بھی تراشے، جیسے فرمانا، شرمانا، خریدنا، بخشنا، جنہیں ہندی نے بھی بخوشی قبول کر لیا۔
بنیادی لفظیات (Basic Vocabulary) کی بات کریں تو حروفِ جار (نے، سے، پر، تک، کا، کی)، کلماتِ استفہام (کیوں، کب، کہاں)، ضمیریں (میں، تم، ہم، وہ) اور گنتی (ایک سے لے کر اربوں تک) دونوں زبانوں میں بالکل ایک ہیں۔ یہ لسانی اشتراک اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہندی اور اردو دراصل ایک ہی روح کے دو قالب ہیں۔
