اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں جب دہلی اور لکھنؤ کی فضاؤں میں اردو شاعری اپنے عروج پر تھی، تو دوسری طرف کلکتہ میں اردو نثر کی ایک نئی اور خاموش تحریک جنم لے رہی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برطانوی سامراج ہندوستان میں اپنے قدم جما رہا تھا اور انگریز افسروں کو مقامی زبان سکھانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اسی مقصد کے تحت جان گلکرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں اردو (جسے اس وقت ہندوستانی کہا جاتا تھا) پر توجہ دی اور منشیوں کو جمع کیا۔
اگرچہ فورٹ ولیم کالج کا قیام ایک سیاسی اور سامراجی ضرورت کے تحت عمل میں آیا تھا، لیکن اس نے اردو نثر کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اس سے قبل اردو نثر عطا حسین تحسین کی 'نو طرز مرصع' جیسی کتابوں کی مشکل، مقفیٰ اور مسجع عبارتوں کی بھول بھلیوں میں گم تھی۔ فورٹ ولیم کالج کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ اس نے نثر کو اس مصنوعی پن سے نکالا اور اسے بول چال کی فطری زبان کے قریب کیا۔
اس کالج سے وابستہ حیدر بخش حیدری، شیر علی افسوس اور نہال چند لاہوری جیسے کئی ادیبوں نے گراں قدر کام کیا، لیکن جو بقائے دوام میر امن دہلوی کی 'باغ و بہار' کو نصیب ہوا، وہ کسی اور کے حصے میں نہ آیا۔ گوپی چند نارنگ کے مطابق، اردو اگر پراکرتی (ہندی) اور عربی و فارسی عناصر کے درمیان ایک لسانی توازن کا نام ہے، تو میر امن نے اپنی زبردست لسانی جینیئس کی بدولت اس توازن کے حسن کا راز پا لیا تھا۔
میر امن کی نثر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف 'کوثر و تسلیم' (عربی و فارسی کی پاکیزگی) میں دھلی ہوئی نہیں ہے، بلکہ اس میں 'گنگا اور جمنا' (ہندوستانی مٹی کی سوندھی مہک) کا عکس بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ ان کی زبان میں ایک ایسی روانی، سادگی اور مٹھاس ہے جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ 'باغ و بہار' کا یہ اقتباس اس کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
’’اب دمڑی کی ٹھڈیاں میسر نہیں جو چبا کر پانی پیوں۔ دو تین فاقے کڑاکے کے کھینچے۔ تاب بھوک کی نہ لا سکا۔ لاچار بے حیائی کا برقعہ منہ پر ڈال کر یہ قصد کیا، بہن کے پاس چلیے۔۔۔ وہ ماجائی، میرا یہ حال دیکھ کر، بلائیں لے اور گلے مل کر بہت روئی۔ تیل مالش اور کالے ٹکے مجھ پر سے صدقے کیے۔ ایک دن وہ بہن کہنے لگی، اے بیرن! تو میری آنکھوں کی پتلی اور ماباپ کی موئی مٹی کی نشانی ہے۔ تیرے آنے سے میرا کلیجا ٹھنڈا ہوا۔‘‘
اس نثر کو پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو زبان اب اپنے لڑکپن کی حدود سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی۔ اس میں ادائے مطلب کی وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو ایک ترقی یافتہ زبان کا خاصہ ہوتی ہیں۔ میر امن نے اردو نثر کو وہ راستہ دکھایا جس پر چل کر آگے چل کر غالب اور سرسید نے جدید اردو نثر کی عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں۔
