اردو غزل کی کلاسیکی روایت میں عاشق کا ایک مخصوص اور روایتی کردار (Conventional Persona) رہا ہے، جو عموماً بے بس، خوار اور محض خیالی ہوتا ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی تجزیے کے مطابق، میر تقی میر اور مرزا غالب، دونوں اس روایتی کردار سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے اپنے عاشق کو ایک نئی انفرادیت عطا کرتے ہیں۔ ان دونوں عظیم شاعروں کے یہاں اشتراکِ لسان کے باوجود، عاشق کے کردار کی تشکیل میں جو بنیادی فرق ہے، وہ ان کے تخلیقی رویوں کا عکاس ہے۔
محمد حسن عسکری کے حوالے سے یہ بحث سامنے آتی ہے کہ میر کے عاشق میں خود سپردگی زیادہ ہے، لیکن اس کا وقار ایک خوددار انسان کا وقار ہے۔ میر کا عاشق محبوب سے محض افلاطونی محبت کا طالب نہیں، بلکہ وہ ایک گوشت پوست کا انسان ہے جو ہم بستری کا بھی تقاضا کرتا ہے اور ہجر میں ان لمحات کو یاد بھی کرتا ہے۔ وہ محبوب سے یہ نہیں چاہتا کہ اس کے عالم و فاضل ہونے کی بنا پر اس کی تکریم کی جائے، بلکہ وہ صرف انسانوں جیسا برتاؤ چاہتا ہے۔ اسی انسانی سطح کی وجہ سے میر کا عاشق محبوب سے ہاتھا پائی، گالی گلوچ اور طنز بھی کر لیتا ہے۔ میر کے یہاں عاشق کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ روایتی صفات رکھنے کے باوجود ایک حقیقی انسان معلوم ہوتا ہے، کسی لفظی رسومیات (Verbal Convention) کا پتلا نہیں۔
اس کے برعکس، غالب کے عاشق کی انفرادیت اس کی رسومیاتی شدت میں پنہاں ہے۔ غالب نے غزل کی رسومیات کو اس شدت سے برتا کہ ان کے یہاں عاشق کی ہر صفت اپنی مثال آپ ہو گئی۔ غالب کا عاشق انسان کی سطح سے اٹھ کر ایک 'آئیڈیل' (Ideal) بن جاتا ہے۔ اس میں نرگسیت، انانیت اور خودداری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ غالب کے استعاراتی اور محاکاتی تخیل نے عاشق کے خواص و عادات کو منتہائے کمال تک پہنچا دیا ہے۔ مثال کے طور پر غالب کا یہ شعر دیکھیے:
غالب مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل
یہاں محبوب اور اس سے ہم آغوشی کی خواہش دونوں تجریدی اور مثالی سطح پر ہیں۔ غالب کا عاشق روزمرہ کی دنیا کا باشندہ نہیں، بلکہ ایک ایسی فضا کا مکین ہے جہاں رشک، وفاداری، وحشت اور جنون اپنی مثالی شدت کے ساتھ موجود ہیں۔
فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں کہ میزان کے ایک سرے پر میر ہیں، جو عاشق کو انسان بنا کر پیش کرتے ہیں، اور دوسری طرف غالب ہیں جو عاشق کو آئیڈیل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ میر کا استعارہ مرئی (Visual) اور زمینی ہے، جبکہ غالب کا استعارہ تجریدی (Abstract) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میر کے عاشق سے ہم ایک عام انسان کی طرح ملتے ہیں، اس کے دکھ سکھ کو محسوس کرتے ہیں، جبکہ غالب کے عاشق کی عظمت اور انانیت ہمیں حیرت زدہ کر دیتی ہے۔
