اردو شاعری کی تاریخ میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ غالب نے آخر وہ پیچیدہ اور مشکل اسلوب کیوں اختیار کیا جو اردو شاعری کی مروجہ روایت سے تقریباً قطعاً منافی تھا؟ شمس الرحمن فاروقی اس کا جواب غالب کی شدید انفرادیت پسندی اور ان کے خاندانی پس منظر میں تلاش کرتے ہیں۔
غالب کے عہد تک آتے آتے لوگ میر تقی میر کو تقریباً بھول چکے تھے۔ میر کے لہجے کی اپنائیت، ان کی ہندی بحروں کا استعمال اور احساسِ ہم جلیسی اس درجہ متروک ہو چکے تھے کہ اس وقت کے شعراء پہلوانِ سخن کی بے کیف مضمون آرائیوں (جیسے ناسخ)، انشا کے خم ٹھونکنے کے انداز، مومن کی نازک خیالیوں اور ذوق کے اخلاقی مضامین میں الجھے ہوئے تھے۔ ایسے عالم میں غالب کے لیے سب سے آسان راستہ یہ تھا کہ وہ میر کی طرح کے شعر کہتے اور 'محیِ طرزِ میر' کا لقب حاصل کر لیتے۔ یا پھر وہ اپنے استاد نظیر اکبر آبادی کی ارضیت کو اپناتے، یا جرات کی طرح طنز و مزاح کی آمیزش کرتے۔
لیکن غالب نے ان میں سے کوئی راستہ نہیں چنا۔ انہوں نے ایک ایسا منصوبہ بنایا کہ انہیں دوسروں کے مقابلے میں مختلف شعر کہنے ہیں، اور اس کے لیے انہوں نے مروجہ اسلوب کے برخلاف ایک پیچیدہ اسلوب اختیار کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کا جاگیردارانہ ماحول اور حسب و نسب پر فخر تھا۔ ذوق یا مومن کے برعکس، غالب ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جہاں اقتدار و اختیار کی فضا تھی اور جہاں شاعر کا وجود تقریباً قولِ محال تھا،لیکن ایسی فضا میں آنکھ کھولنے والا شاعر،
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
کی طرح کا شعر نہیں کہہ سکتا تھا۔ غالب کا گھریلو ماحول اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ قلندرانہ آزادہ روی کے بجائے شاہانہ آزادہ روی اور بلند کوشی کا حامل ہو۔ ان کی دانش ورانہ واقعیت، جس میں حدود و قیود کو توڑ نکلنے کی رومانی ادا بھی ملتی ہے، اسی ماحول کی آئینہ دار ہے۔ غالب کو پابستگیِ رسم و رہِ عام گوارا نہ تھی۔ وہ خود کو دوسروں سے ممتاز کرنے کے لیے ایک ایسی راہ پر چلے جو مذاقِ عام کے منافی تھی۔ ان کی انا اور ان کے ذہن کی ساخت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اشیاء کو تہہ بہ تہہ سمجھیں اور انہیں اس طرح پیش کریں کہ ان کی تمام تہیں بیک وقت دکھائی دے سکیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایک مبہم اور پیچیدہ اسلوب کے سوا کوئی اور راستہ ممکن ہی نہ تھا۔
