Added to your favorites
کبیر نے روایتی اور کلاسیکی شعریات کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئی عوامی شعریات کی بنیاد رکھی، جو دراصل اس وقت کے جابرانہ سماجی نظام کے خلاف ایک بغاوت تھی۔
اس مضمون میں ساختیاتی تنقید کے حوالے سے اردو شاعری کی تین معنیاتی سطحوں (عاشقانہ، متصوفانہ، اور سیاسی) کا جائزہ لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ فیض نے کس طرح روایتی علائم کو انقلابی مفاہیم دیے۔
آپ کو باقاعدگی سے کچھ حاصل کرنا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کسی بھی ای میل کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔