کبیر اور ان کے عہد کے دیگر بڑے صوفی اور بھگت شاعروں میں ایک نہایت بنیادی فرق تھا۔ اس زمانے کے اکثر صوفیا اور مشائخ علمی روایت کے امین تھے اور فارسی یا سنسکرت کی کلاسیکی شعریات سے کماحقہٗ واقف تھے۔ ان کے برعکس، کبیر اور دیگر سنت کوی زیادہ تر اَن پڑھ تھے۔ کبیر نے نہ تو کبھی خود کو باقاعدہ شاعر سمجھا اور نہ ہی کبھی شاعری کا دعویٰ کیا۔ ان کے لیے شاعری محض فن برائے فن نہیں تھی، بلکہ عام لوگوں تک اپنا روحانی پیغام پہنچانے کا ایک وسیلہ تھی۔
کبیر کی شاعری دراصل ان کے اندر کی آگ تھی۔ یہ ذات پات کی تفریق، برہمنیت کی اجارہ داری، اور فرقہ واریت کے خلاف ایک زبردست نعرۂ جنگ تھا۔ چنانچہ سنسکرت یا فارسی کی کلاسیکی شعریات سے ان کے کسی رشتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر ان کا کلاسیکی روایت سے کوئی رشتہ تھا، تو وہ صرف انحراف اور بغاوت کا تھا۔
کبیر کا یہ انحراف محض ادبی نہیں تھا، بلکہ اس کے گہرے سماجی اور سیاسی مضمرات تھے۔ پہلے کی شعریات کو ماننے کا مطلب اس زبان کو ماننا تھا، اور اس زبان کو ماننے کا مطلب اس پورے جابرانہ نظام (Status Quo) کو تسلیم کرنا تھا جس کے خلاف کبیر کی آواز ایک بغاوت تھی۔ انہوں نے لسانی آثار اور شعری آثار، دونوں کو ٹھکرا دیا۔
پوتھی پڑھ پڑھ جگ موا پنڈت بھیا نہ کوئے
ڈھائی آکھر پریم کا پڑھے سو پنڈت ہوئے
کانکر پھاتر جور کئے مسجد لئی بنائے
تا چڑھ ملا بانگ دے کیا بہرا ہوا خدائے
ان اشعار میں چھپی کاٹ اور طنز اس بات کا ثبوت ہے کہ کبیر نے مروجہ مذہبی اور سماجی ڈھانچوں کو کس بے دردی سے چیلنج کیا۔ انہوں نے ایک ایسی عوامی شعریات کی بنیاد رکھی جس میں استعارے اور تشبیہات درباروں یا کتابوں سے نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی، کمہار کے چاک، اور بنکر کے کرگھے سے آتے تھے۔ کبیر کے اس شعری سفر کے دوران رفتہ رفتہ ایک نیا شعری محاورہ وجود میں آیا جس نے کلاسیکی شعریات کے متوازی ایک طاقتور عوامی شعریات کو کھڑا کر دیا۔
