اردو غزل کی کلاسیکی روایت میں 'دردمندی'، غم اور سوزِ دروں کو محض ایک منفی جذبہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے انسانیت کی معراج اور روحانی بیداری کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اس تصور کی وضاحت کے لیے دلی کے ایک بزرگ سید رسول نما کا ایک نہایت دلچسپ اور سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہیں۔
سید رسول نما کی کرامت تھی کہ وہ کسی سے بھی دو ہزار روپے لے کر اسے خواب میں رسول اللہ کی زیارت کرا دیا کرتے تھے۔ ایک بار ان کی بیوی نے ضد کی کہ انہیں بھی زیارت کرائی جائے۔ بزرگ نے دو ہزار روپے مانگے، جو بیوی کے پاس نہیں تھے۔ بزرگ نے کہا کہ اچھا، تم چوتھی کا جوڑا (عروسی لباس) پہن کر اور بن ٹھن کر آؤ۔ جب بیوی سچ مچ دلہن بن کر آئیں تو بزرگ نے ان کا خوب مذاق اڑایا کہ اس بڑھاپے میں یہ سرخ جوڑا اور یہ سجاوٹ کیسی؟ بیوی اس تضحیک پر اس قدر روئیں کہ روتے روتے بے ہوش ہو گئیں۔ اسی بے ہوشی کے عالم میں انہیں زیارت نصیب ہو گئی۔
جب وہ ہوش میں آئیں تو بزرگ نے مسکرا کر کہا کہ دراصل جب تک دل میں درد نہ ہو، زیارت نصیب نہیں ہوتی۔ جو لوگ دو ہزار روپے دیتے ہیں، اتنی بڑی رقم جانے پر ان کا دل دکھتا ہے اور اسی درد کی بدولت انہیں زیارت ہوتی ہے۔ تمہارے پاس پیسے نہیں تھے، اس لیے مجھے تمہارا دل دکھانے کے لیے تمہیں رلانا پڑا۔
یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ ہماری روایت میں غم کو گلے لگانے اور دردمندی کو اپنانے کی کیا اہمیت ہے۔ جدید شاعری میں احمد مشتاق نے اس دردمندی اور باطنی انہدام کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
دل کو بے وجہ سکوں ملنے لگا ہے مشتاق
کوئی شے ٹوٹ رہی ہے مرے اندر دیکھو
یہاں بظاہر سکون ہے، لیکن درحقیقت یہ وہ منزل ہے جہاں انسان غم کو انگیز کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا اور اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی انہدام اسی کلاسیکی دردمندی کی ایک جدید اور نفسیاتی شکل ہے۔ سچی شاعری اسی وقت جنم لیتی ہے جب دل کے اندر کوئی شے ٹوٹتی ہے اور اس کی گونج الفاظ کے پیکر میں ڈھلتی ہے۔
