اردو شاعری میں غالب کی زبان اور ان کے طرزِ اظہار پر ہمیشہ سے بحث ہوتی رہی ہے۔ غالب نے خود ایک جگہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ قدما یا متاخرین (جیسے کلیم، صائب، اسیر) کے کلام میں کوئی لفظ یا ترکیب دیکھے بغیر اسے اپنے کلام میں نہیں باندھتے۔ لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ غالب نے شعر کی زبان میں کوئی تغیر نہیں کیا، تو ان کی عظمت کا ایک بڑا حصہ خاک میں مل جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غالب کا سب سے بڑا کارنامہ نئے الفاظ گھڑنا نہیں تھا، بلکہ موجود الفاظ کو بالکل نئے ڈھنگ سے استعمال کرنا تھا۔
اس نئے استعمال کی بنیادی صفت 'استعارہ' اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا 'ابہام' (Ambiguity) ہے۔ غالب کے یہاں استعارہ محض کلام میں حسن یا زور پیدا کرنے والی کوئی خارجی صفت نہیں ہے، بلکہ یہ خود شعر کی ہیئت (Structure) ہے۔ ان کے استعارے کا اولین عمل مختلف معانی کو یکجا کرنا ہے۔ وہ معنی آفرینی کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ مومن کے سوا اپنے ہم عصروں میں کسی کو اس صفت سے متصف نہیں مانتے تھے۔ غالب کا یہ شعر ان کے شعری نظریے کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے خود غالب نے لکھا تھا: "اس میں کوئی اشکال نہیں، جو لفظ ہیں وہی معنی ہیں۔ شاعر اپنا قصد کیوں بتائے کہ میں کیا کروں گا۔ مبہم کہتا ہے کہ کچھ کروں گا۔" یہاں نکتہ یہ ہے کہ لفظ اور معنی کا مکمل اتحاد ہے، اور پھر بھی معنی میں ایک گہرا ابہام ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ کون سے تجربات ہوں گے جنہوں نے بیک وقت زندگی سے ناامیدی اور پھر کچھ 'مبہم' ارادے کرنے پر مجبور کر دیا۔
جدید اردو شاعری میں مغربی اثرات کی نشان دہی تو بہت کی گئی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ جدید استعارے کا بیشتر ڈھانچہ غالب کا دیا ہوا ہے۔ غالب کا مقصد ایک ایسا لفظی ڈھانچہ خلق کرنا تھا جس کا تناؤ اور توازن صرف الفاظ کے سطحی معنوں کا مرہونِ منت نہ ہو۔ ان کی مشکل پسندی ناسخ یا شاہ نصیر کی طرح بے بہرہ زمینوں میں قافیہ پیمائی نہیں تھی، بلکہ شگفتہ معنویت سے لبریز تھی۔ آج کی جدید شاعری جو مماثلتوں کے واضح بیان سے گریز کرتی ہے اور لفظ و معنی کے وصال کی متلاشی ہے، وہ دراصل غالب ہی کے تخلیق کردہ شعری ڈھانچے پر کھڑی ہے۔ ہمارا عہد اپنے فنی مزاج کو سمجھنے کے لیے غالب کے اسی لفظ و معنی والے استعارے کا محتاج ہے۔
