ادبی علامت کی ایک اہم خصوصیت اس کی 'تکرار' (Repetition) ہے۔ کوئی بھی لفظ محض ایک بار استعمال ہونے سے علامت نہیں بن جاتا۔ علامت ایک پورے نظام کی نشان دہی کرتی ہے، اور جب کوئی لفظ کسی فن پارے میں بار بار ایک خاص سیاق و سباق کے ساتھ ابھرتا ہے، تو وہ اپنے اندر کثیر المعنویت اور گہرائی پیدا کر لیتا ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی ایک نہایت اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ہر تکرار علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تکرار محض شاعر کی عادت اور اس کی کمزور تخلیقی قوت کا پردہ ہوتی ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے کولرج کی مشہور نظم 'The Rime of the Ancient Mariner' کی مثال لی جا سکتی ہے۔ اس نظم میں 'چاند' کا ذکر بار بار آتا ہے۔ شروع میں چاند محض ایک آسمانی وجود ہے، لیکن جیسے جیسے نظم آگے بڑھتی ہے، چاند کی روشنی میں تغیر آتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جہازی کی دنیا اور اس کے احساسات بدل جاتے ہیں۔ چاند اس کے گناہ، ثواب، تنہائی اور خوف کا مرجع بن جاتا ہے۔ یہاں چاند کی تکرار نے اسے ایک عظیم علامت میں ڈھال دیا ہے، جو اس حقیقت کا حصہ بن گئی ہے جسے وہ بیان کر رہی ہے۔
اس کے برعکس، اردو غزل کی روایت میں ہمیں ایسی تکرار کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جو علامتی نہیں بلکہ محض رسمی ہیں۔ جب کوئی شاعر 'گل'، 'بلبل'، 'قفس' اور 'آشیاں' جیسے الفاظ کو کسی ذاتی یا مخصوص معنویت کے بغیر، محض عادت سے مجبور ہو کر استعمال کرتا ہے، تو یہ الفاظ علامت کا درجہ کھو دیتے ہیں۔ فاروقی صاحب ایک اوسط درجے کے غزل گو سراج لکھنوی کی غزل کی مثال دیتے ہیں:
ہنسی پر رکھ لیا پھولوں نے جس کو اس کی موت آئی
وہی اچھا رہا جس نے قفس سے آشیاں بدلا
اس غزل کے گیارہ شعروں میں چار بار 'قفس' اور 'آشیاں' اور دو بار 'آسماں' استعمال ہوا ہے۔ یہ تکرار کسی گہرے علامتی نظام کا حصہ نہیں، بلکہ قافیے کی مجبوری اور شاعر کے غیر شعوری انتخاب کا نتیجہ ہے۔ شاعر انہیں الفاظ کو چنتا ہے جن سے وہ مانوس ہے، لیکن وہ ان میں کوئی نئی 'نیم روشنی' یا معنی نہیں بھر پاتا۔
تکرار یقیناً علامت بناتی ہے، لیکن اندھی تکرار نہیں۔ اگر کوئی شاعر اپنی نظم میں پچاس بار 'سمندر' لکھ دے اور دعویٰ کرے کہ یہ اس کی علامت ہے، تو یہ فن نہیں بلکہ فنکارانہ زوال ہے۔ سچی علامت اپنے سیاق و سباق کو متاثر کرتی ہے اور اس سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ ایک زندہ وجود کی طرح ہوتی ہے جس میں معنی کا بڑھنا تو ممکن ہے، لیکن سمٹنا ممکن نہیں۔ جب الفاظ محض رسم کے طور پر استعمال ہونے لگیں، تو وہ اپنی علامتی شدت کھو کر محض کھوکھلے ڈھانچے رہ جاتے ہیں۔
