اردو تنقید میں ایک عام مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ اگر کسی شاعر نے اپنے کلام میں کسی خاص مضمون یا استعارے کو بار بار استعمال کیا ہے، تو وہ لازماً اس کی شخصیت کا حصہ ہوگا۔ اس اصول کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا گیا کہ غالب کے مزاج میں رشک کا مادہ بہت تھا اور میر تقی میر بے حد خوددار انسان تھے۔ لیکن کلاسیکی غزل کی شعریات کا گہرا مطالعہ اس مفروضے کو باطل قرار دیتا ہے۔ غزل دراصل آپ بیتی یا اقبالِ جرم کی دستاویز نہیں، بلکہ مضمون آفرینی کی ایک وسیع دنیا ہے۔
کسی مضمون کی کثرت صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ شاعر کو اس مخصوص شعری روایتی مضمون سے شغف تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ وصف شاعر کی حقیقی زندگی میں بھی موجود ہو۔ بسا اوقات انسان ان صفات کی طرف زیادہ کشش محسوس کرتا ہے جن سے وہ خود محروم ہوتا ہے۔ اگر غالب کے یہاں رشک کے مضامین ہیں، تو وہیں معشوق کی خوشامد اور انتہائی فروتنی کے اشعار بھی کثرت سے موجود ہیں، جو رشک کی ضد ہیں۔ مثلاً غالب کہتے ہیں:
غالب ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
وہ سن کے بلالیں یہ اجارہ نہیں کرتے
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
اسی طرح اگر شعرا اپنے بارے میں کوئی برائی بیان کریں، تو اسے بھی من و عن سچ مان لینا عقل مندی نہیں۔ کلاسیکی شعرا اپنی قادر الکلامی دکھانے کے لیے نت نئے مضامین باندھتے تھے۔ مصحفی کے کلام میں جنسی تعلقات اور امرد پرستی کے متضاد اشعار اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ وہ محض مضامین باندھ رہے تھے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں:
چھوڑا نہ میاں مصحفی تم نے کوئی لونڈا
تم کام میں اپنے غرض استاد ہو کوئی
اور دوسری طرف فرماتے ہیں:
جو ملے بھی وہ تو مجھ سے نہ ہو فعل زشت سرزد
یہ دعا قبول میری مرے پاک ذات کرنا
اگر ان اشعار کو آپ بیتی سمجھا جائے تو مصحفی کی شخصیت کی ایسی متضاد تصویر بنتی ہے جس پر کوئی حکم لگانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میر تقی میر نے اپنے دیوانِ پنجم (جو 80 سال کی عمر کے بعد مرتب ہوا) میں معشوق کو 'اوباش' اور 'بدمعاش' کہا ہے:
صحبت میں اس کی کیوں کے رہے مرد آدمی
وہ شوخ و شنگ و بے تہہ و اوباش و بدمعاش
اگر شاعری کو شخصیت کا آئینہ دار مان لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ 80 سالہ میر کا معشوق کوئی شاہدِ بازاری تھا اور میر کا اپنا مذاق انتہائی پست تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب غزل کی روایتی مضمون آفرینی کے کرشمے ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر طرح کے مضمون کو پوری فنی مہارت سے باندھے۔ کسی مضمون کی کثرت کلام میں علامتی انداز تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن وہ شاعر کی نجی شخصیت کے بارے میں کوئی حتمی اور معتبر اطلاع فراہم نہیں کرتی۔
