اردو غزل محض قافیہ ردیف ملانے یا کوئی نیا خیال پیش کر دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ لفظوں کی انتہائی کفایت شعاری اور تراش خراش کا فن ہے۔ شمس الرحمن فاروقی غزل کی شعریات پر بحث کرتے ہوئے دو بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو اکثر شعراء، حتیٰ کہ فراق گورکھپوری جیسے نامور شاعر کے کلام میں بھی کثرت سے پائی جاتی ہیں: 'حشو' اور 'عجزِ نظم'۔
'حشو' سے مراد شعر میں ایسے الفاظ کا استعمال ہے جو معنی کی تعمیر، توسیع یا ترقی میں کوئی حصہ نہ لیں۔ غزل کا تقاضا ہے کہ شعر کا ہر لفظ اپنی جگہ پر ناگزیر ہو اور اسے ہٹانے یا بدلنے سے شعر کا حسن مجروح ہو۔ فاروقی صاحب فراق کا ایک شعر بطور مثال پیش کرتے ہیں:
کیا کیفیت حسن بھی اک بار ہے یا رب
سر تا بہ قدم وہ ہیں کہ بل کھائے ہوئے ہیں
اس شعر میں لفظ 'کیفیت' بالکل غیر ضروری اور بے کار ہے۔ حسن کا بار تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن 'کیفیتِ حسن' کا بار ہونا بے معنی ہے۔ اسی طرح فراق کے ایک اور شعر میں:
وہ مخاطب بھی ہیں قریب بھی ہیں
ان کو دیکھیں کہ ان سے بات کریں
یہاں 'قریب بھی ہیں' کا ٹکڑا محض حشو ہے۔ جب کوئی مخاطب ہے تو ظاہر ہے کہ وہ قریب ہی ہوگا۔ مصرع پورا کرنے کے لیے ایسے الفاظ ٹھونسنا بڑے شاعر کا شیوہ نہیں ہوتا۔
دوسری بڑی خامی 'عجزِ نظم' ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ شاعر کے ذہن میں ایک خیال تو موجود ہے، لیکن وہ اسے مناسب الفاظ میں پوری طرح ادا کرنے سے قاصر رہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں یہ فیشن چل نکلا تھا کہ شعر میں صرف 'نیا مضمون' ہونا چاہیے، اسلوب یا اظہار کی پرواہ نہیں کی جاتی تھی۔ فراق صاحب نے نئے مضامین کی تلاش میں اظہار کی پرواہ نہیں کی، جس کے نتیجے میں ان کے اشعار اکثر عجزِ نظم کا شکار ہو گئے۔
اس کے برعکس، میر انیس، میر تقی میر اور غالب جیسے اساتذہ کے یہاں الفاظ ہمیشہ معنی کے مرتبے کے لحاظ سے لائے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں کوئی لفظ فالتو نہیں ہوتا۔ غزل کا کمال ہی یہ ہے کہ بات کم سے کم الفاظ میں، لیکن انتہائی جامعیت اور تاثیر کے ساتھ کہی جائے۔ جب تک شاعر کو اپنے اظہار اور زبان پر مکمل عبور نہ ہو، محض نیا خیال اسے بڑا شاعر نہیں بنا سکتا۔
