علمائے ادب کے نزدیک فصاحت کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ لفظ کے حروف میں تنافر (بھاری پن) نہ ہو، وہ نامانوس نہ ہو اور قواعدِ زبان کے خلاف نہ ہو۔ اس کی سادہ سی تشریح یہ ہے کہ لفظ دراصل ایک آواز ہے۔ جس طرح طوطی و بلبل کی آوازیں شیریں اور دل آویز ہوتی ہیں، اور کوے یا گدھے کی آوازیں مکروہ اور ناگوار گزرتی ہیں، بالکل اسی طرح الفاظ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ شستہ، سبک اور شیریں الفاظ 'فصیح' کہلاتے ہیں، جبکہ ثقیل اور بھدے الفاظ 'غیر فصیح' قرار پاتے ہیں۔ بعض الفاظ بذاتِ خود برے نہیں ہوتے، لیکن چونکہ وہ تحریر و تقریر میں کم استعمال ہوتے ہیں، اس لیے کانوں کو اجنبی لگتے ہیں۔ انہیں اصطلاح میں 'غریب' کہا جاتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات ایک ماہر فنکار ان غریب الفاظ کو ایسی ترکیب میں لاتا ہے کہ ان کی اجنبیت ختم ہو جاتی ہے، جیسے اردو میں 'نار' (آگ) کا لفظ اکیلا عجیب لگتا ہے، لیکن 'نارِ دوزخ' کی ترکیب میں یہ پوری طرح فصیح ہو جاتا ہے۔
لیکن کلام کی فصاحت کا اصل راز صرف مفرد الفاظ کے فصیح ہونے میں پوشیدہ نہیں ہے۔ ایک لفظ اکیلا کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اگر اسے نامناسب الفاظ کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کی ساری فصاحت خاک میں مل جاتی ہے۔ الفاظ کی ساخت، ہیئت، نشست، اور ان کی سبکی و گرانی کے درمیان ایک خاص تناسب اور توازن ہونا ضروری ہے۔
اردو شاعری میں اس کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ میر انیس کا مصرع ہے: 'فرمایا آدمی ہے کہ صحرا کا جانور'۔ صحرا اور جنگل ہم معنی ہیں، لیکن اگر یہاں صحرا کی جگہ 'جنگل' لگا دیا جائے تو مصرع بے مزہ ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، ذیل کے شعر میں 'جنگل' ہی فصیح ہے:
طائر ہوا میں مست، ہرن سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں
یہاں اگر جنگل کی جگہ صحرا لایا جائے تو مصرع پھس پھسا ہو جائے گا۔ اسی طرح 'اوس' اور 'شبنم' ہم معنی ہیں۔ ایک شعر میں اوس کا کمال دیکھیے:
کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا
تھا موتیوں سے دامنِ صحرا بھرا ہوا
اگر یہاں اوس کی جگہ شبنم لایا جائے تو فصاحت ختم ہو جائے گی۔ لیکن اگر مصرع ہو 'شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے'، تو یہاں اوس کا لفظ لانا صریح ظلم ہوگا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر لفظ ایک قسم کا 'سُر' ہے۔ نغمہ اور راگ مفرد آوازوں کا نام ہے، ہر سُر بجائے خود دلکش ہوتا ہے، لیکن اگر دو مخالف سُروں کو ملا دیا جائے تو راگ مکروہ ہو جاتا ہے۔ الفاظ بھی چونکہ ایک قسم کی صوت اور سُر ہیں، اس لیے ان کی لطافت اور روانی اسی وقت قائم رہتی ہے جب گرد و پیش کے الفاظ بھی ان کے ہم آہنگ ہوں۔ جب کسی مصرعے کے تمام الفاظ میں یہ تناسب، توازن اور توافق پایا جائے، تو اسے 'بندش کی صفائی'، 'نشست کی خوبی' اور 'روانی' کہا جاتا ہے۔ یہی وہ کمال ہے جس کے بارے میں حافظ شیرازی نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص صنعت گر تو ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کا شعر رواں بھی ہو۔
