اردو شاعری میں علامتوں کا استعمال عموماً محدود رہا ہے، لیکن مرزا غالب کے یہاں ہمیں ایسی علامتیں ملتی ہیں جو عالمی ادب کے معیار پر پوری اترتی ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے غالب کی شاعری میں لفظ 'دشت' (صحرا/بیابان) کا جو تجزیہ کیا ہے، وہ ادبی تنقید کا ایک شاہکار ہے۔ غالب کے یہاں 'دشت' محض ویرانی یا دیوانگی کا استعارہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی کثیر المعنوی علامت بن کر ابھرتا ہے جو زمان، مکان، اور انسانی وجود کے اسرار کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
غالب کے اشعار میں دشت کی تکرار غیر خلاقانہ نہیں ہے، بلکہ ہر شعر میں دشت کی ایک نئی صورت حال اور نئی جہت سامنے آتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسد
جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
جادہ اجزائے دوعالم دشت کا شیرازہ تھا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
ان اشعار میں دشت کے مختلف روپ ہیں۔ کہیں یہ 'دفترِ امکاں' ہے، کہیں 'دشتِ امکاں' جس کا ہر ذرہ تلوار کی دھار کی طرح آبدار ہے۔ کہیں یہ ایک ایسا طلسم ہے جہاں اشیاء بیک وقت موجود بھی ہیں اور معدوم بھی۔ فاروقی صاحب کے مطابق، غالب کے ان اشعار پر جس کیفیت کا غلبہ ہے، وہ 'رفتار' اور 'رم' (بھاگنے) کی کیفیت ہے۔
غالب کا دشت موہوم بھی ہے اور حقیقی بھی۔ یہ وقت کی طرح ٹھہرا ہوا بھی ہے اور متحرک بھی۔ یہ 'زماں' (Time) بھی ہے، کیونکہ خضر (جو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں) اس دشت کے آواروں کے مشتاقِ دید ہیں۔ یہ 'مکاں' (Space) بھی ہے، کیونکہ جادۂ وحشت اس کا شیرازہ ہے۔ یہ اتنا وسیع ہے کہ ایک قدم بڑھنے سے امکانات کے دفتر کھل جاتے ہیں، اور اتنا مختصر ہے کہ محض ایک نقشِ پا کے برابر ہے۔
بنیادی طور پر، غالب کا دشت 'وقت' یا 'زمان' کی علامت ہے، اور اس زمان و مکان کا پیمانہ محض رفتار ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر، یہ دشت اس موضوعی دشت یعنی 'انسانی ذہن' کی بھی علامت ہے جو مسلسل سفر میں ہے، جو کبھی نہیں رکتا۔ غالب نے ایک عام سے استعاراتی لفظ کو اپنی غیر معمولی تخلیقی قوت اور متحرک ذہن کے ذریعے ایک ایسی علامت میں بدل دیا ہے جس میں شدید تناؤ (Tension) اور گہرائی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عظیم فنکار پرانے الفاظ میں بھی ایسی 'نیم روشنی' بھر سکتا ہے کہ وہ صدیوں تک قاری کے ذہن کو منور کرتے رہیں۔
