ادب اور معاشرے کا رشتہ ہمیشہ سے گہرا رہا ہے، اور جب معاشرے میں کوئی زلزلہ آتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست ادبی اصناف پر پڑتے ہیں۔ 1947 میں تقسیمِ ہند کا واقعہ محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسی رستاخیز تھی جس نے انسانی نفسیات اور تہذیب کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ انتظار حسین کے مطابق، اس ہنگامے میں ہجرت کرنے والوں نے صرف اسپیشل ریل گاڑیاں ہی نہیں دیکھیں، بلکہ ان کے متوازی بیلیوں اور رتھوں میں لدے ہوئے وہ قافلے بھی دیکھے جو ابھی تک قبائلی عہد کی فضا میں جی رہے تھے۔
اس خونی ہجرت نے یہ ثابت کر دیا کہ انگریزی تعلیم سے آراستہ طبقوں کے پہلو بہ پہلو ابھی وہ قبیلے بھی موجود ہیں جن کی قدیم اخلاقیات میں بال برابر فرق نہیں آیا۔ اس ادراک کے طفیل، احساسات کے وہ قدیم سانچے اور اظہار کی پرانی صورتیں جنہیں متروک سمجھ لیا گیا تھا، اچانک پھر سے بامعنی اور کارآمد نظر آنے لگیں۔ اس مقام پر 'نئی نظم' جو سائنسی حقیقتوں اور نئے سماجی تقاضوں کا غل مچا رہی تھی، یکایک ایسے فیل ہوئی جیسے پنجاب میں ریل گاڑیوں کا سلسلہ فیل ہوا تھا۔
نئی نظم کی ناکامی کے بعد، تقسیم کے المیے کو بیان کرنے کی ذمہ داری اردو غزل کے کاندھوں پر آ پڑی۔ ناصر کاظمی، جمیل الدین عالی، شہرت بخاری اور ابنِ انشا جیسے شاعروں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر کا دکھ اور ہجرت کا کرب کسی جدید صنف میں نہیں، بلکہ غزل کی قدیم اور روایتی صنف میں ہی ادا ہو سکتا ہے۔ غزل چونکہ صدیوں سے شعورِ ذات کا ذریعہ چلی آ رہی تھی، اس لیے وہ اس عہد کے طرزِ احساس کی بہترین نمائندہ بن کر ابھری۔
ان نئے غزل گویوں کے یہاں ماضی محض ایک گزرا ہوا وقت نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا دکھ تھا جو حال کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ ناصر کاظمی اور انجم رومانی جیسے شاعروں نے ماضی کو یادوں کی صورت میں حافظے میں محفوظ کیا، جس سے رنگارنگ مگر اداس تصویریں بنتی ہیں۔ انتظار حسین اس کیفیت کو واضح کرنے کے لیے ناصر کاظمی کے اشعار کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں ماضی ایک محسوس شکل میں گرفت کیا گیا ہے:
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا
اسی طرح انجم رومانی کے یہاں یہ ماضی ایک کھوئی ہوئی چھت اور سائے کی طرح محسوس ہوتا ہے، جو اب سر پر موجود نہیں:
سایہ خیال بھی اب سر سے اٹھ گیا
یا وہ چھتیں تھیں جن میں تھے ہیرے جڑے ہوئے
یہ اشعار بتاتے ہیں کہ 1947 کے بعد کی غزل محض گل و بلبل کی داستان نہیں رہی تھی، بلکہ یہ ایک پوری تہذیب کے اجڑنے، رشتوں کے ٹوٹنے اور ایک نئے، نامانوس ماحول میں اپنی شناخت تلاش کرنے کا نوحہ بن گئی تھی۔ غزل نے ثابت کیا کہ جب جدیدیت کے تمام دعوے دم توڑ دیتے ہیں، تو انسان اپنے دکھ کے مداوے کے لیے اپنی قدیم ترین روایات کی طرف ہی لوٹتا ہے۔
