ادب میں اصنافِ سخن کی اپنی اپنی انفرادی شناخت اور مخصوص دائرہ کار ہوتا ہے۔ بادی النظر میں مرثیہ اور ڈراما دو بالکل مختلف اور الگ الگ اصناف معلوم ہوتی ہیں۔ مرثیہ، جس کا بنیادی مقصد کسی کے مرنے پر غم کا اظہار اور اس کی خوبیاں بیان کرنا ہے، اور ڈراما، جو اسٹیج پر اداکاروں کے ذریعے زندگی کی نقالی کا نام ہے، بظاہر ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ تاہم، جب ہم ان دونوں اصناف کا گہرا اور تنقیدی مطالعہ کرتے ہیں، تو ان کے درمیان ایک حیرت انگیز اور گہری مماثلت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس مماثلت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرثیے کو ڈراما یا ڈرامے کو مرثیہ قرار دے دیا جائے، بلکہ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مرثیہ نگاروں نے غیر شعوری طور پر ان فنی اور تکنیکی پہلوؤں کو برتا ہے جو ڈرامے کی جان سمجھے جاتے ہیں۔
ڈرامے کے عناصرِ ترکیبی صدیوں کے ارتقائی سفر کے بعد اپنی موجودہ شکل تک پہنچے ہیں۔ ان عناصر میں پلاٹ (واقعہ)، مکالمہ، تصادم، کشمکش، کردار اور عمل شامل ہیں۔ یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک کامیاب ڈرامے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ دوسری جانب، مرثیے کے عناصرِ ترکیبی بھی ایک طویل تاریخی اور ادبی سفر کے بعد مرتب ہوئے ہیں، جنہیں ہم چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین کے نام سے جانتے ہیں۔ ظاہری طور پر مرثیے کے یہ عناصر ڈرامے کے عناصر سے قطعی مختلف نظر آتے ہیں اور ناقدین نے بھی عموماً مرثیے کی اسی روایتی ترتیب پر زور دیا ہے۔ لیکن اگر ہم ان روایتی ناموں کے خول سے باہر نکل کر دیکھیں تو مرثیے کی ترتیبِ واقعہ سے لے کر شہادت کے بیان تک، تصادم، عمل اور کشمکش کے نمایاں پہلو پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ملتے ہیں۔
مرثیے کے گہرے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ گو اس کے عناصرِ ترکیبی میں 'مکالمہ'، 'تصادم' یا 'کشمکش' کے نام سے کوئی باقاعدہ عنصر شامل نہیں، لیکن عملی طور پر مرثیے میں ان کی فراوانی ہے۔ میدانِ کربلا کا منظرنامہ، حق و باطل کی صف آرائی، اور کرداروں کے درمیان ہونے والی گفتگو دراصل ایک زبردست ڈرامائی مکالمے اور تصادم ہی کی تو شکل ہے۔ مرثیے میں کشمکش اپنے نقطہِ عروج (Climax) پر نظر آتی ہے، جہاں ایک طرف پیاس، گرمی اور یزیدی لشکر کی کثرت ہے، تو دوسری طرف حق پر ڈٹے رہنے کا غیر متزلزل ارادہ۔
مزید برآں، مرثیے کے کردار جامد نہیں بلکہ زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور متحرک ہیں۔ وہ سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، مکالمہ کرتے ہیں اور عمل کے میدان میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہیں۔ مرثیے اور ڈرامے کے اجزا میں یہ مماثلت خواہ غیر شعوری اور غیر ارادی ہی کیوں نہ ہو، اس نے مرثیے کو ایک ایسی صنف بنا دیا ہے جس میں قاری یا سامع خود کو واقعات کے درمیان محسوس کرتا ہے۔
مجلسوں میں مرثیہ پڑھنے کا مخصوص انداز (تحت اللفظ) بھی اس میں ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ مرثیہ خواں کے چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھاؤ اور مخصوص حرکات و سکنات سامعین پر وہی اثر مرتب کرتے ہیں جو ایک ڈراما دیکھنے والوں پر ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود مرثیے کو تکنیکی اعتبار سے ڈراما نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ اسٹیج پر پیش کرنے کے لیے نہیں لکھا جاتا۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مرثیے میں ڈرامائی عناصر پوری طرح سرگرمِ عمل نظر آتے ہیں، جو اس کے ادبی اور فنی مرتبے کو مزید بلند کرتے ہیں۔
