ہندوستان کی ادبی تاریخ میں وہ موڑ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب فارسی زبان کا تسلط کمزور پڑنے لگا اور اردو (جسے اس وقت ریختہ کہا جاتا تھا) ایک ترقی یافتہ زبان کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ مرزا محمد رفیع سودا کے کلیات اور میر تقی میر کے 'نکات الشعراء' کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی میں فارسی مشاعروں کے ساتھ ساتھ اردو کے مشاعرے بھی مقبول ہونے لگے۔ ان اردو مشاعروں کو فارسی مشاعروں سے ممتاز کرنے کے لیے اس دور کے لوگوں نے انہیں 'مراختہ' کا نام دیا۔ یہ مراختے دہلی کے شرفاء اور امراء کی حویلیوں میں بڑی باقاعدگی سے منعقد ہوتے تھے، جن میں خان آرزو، خواجہ میر درد اور میر تقی میر کے ہاں ہونے والے مشاعروں کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
ان مشاعروں نے اردو زبان کی ترویج و ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اردو، جو ابتدا میں فارسی کے نقشِ قدم پر چلنے میں فخر محسوس کرتی تھی، رفتہ رفتہ اپنی شناخت بنانے لگی۔ تاہم، دہلی کا سیاسی انتشار اور شعراء کی باہمی معرکہ آرائیاں ان محفلوں پر اثر انداز ہونے لگیں۔ بعض اوقات یہ ادبی چشمکیں اتنی گھناؤنی شکل اختیار کر لیتیں کہ مشاعرے درہم برہم ہو جاتے۔ چونکہ اس دور میں کوئی بڑا اجتماعی یا قومی مقصد سامنے نہیں تھا، اس لیے یہ انفرادی جھگڑے اور لسانی بحثیں ہی اس بے روح زندگی کے خلا کو پر کرتی تھیں۔
جب دہلی کے حالات ابتر ہوئے تو علم و ہنر کے قافلے اودھ، حیدرآباد، عظیم آباد اور فرخ آباد کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ لکھنؤ نے اس میدان میں دہلی کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی۔ نواب آصف الدولہ جیسے حکمرانوں کی براہِ راست سرپرستی میں لکھنؤ کی ہر شب 'شبِ نشاط' اور ہر گلی 'کوئے ادیباں' بن گئی۔ سودا کے لکھنؤ آنے کے بعد مشاعروں کا زور مزید بڑھ گیا۔ اسی دور میں مشاعرے کے کچھ مخصوص آداب اور لوازمات طے پائے، جن کی خلاف ورزی اخلاق اور تہذیب کی خلاف ورزی سمجھی جانے لگی۔
استاد اور شاگرد کا رشتہ، شمع کی گردش، نشست و برخاست کے قاعدے، داد دینے کے مخصوص طریقے، اور میرِ مشاعرہ کی رتبہ شناسی—یہ سب مشاعرے کے لازمی جزو بن گئے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ زبان منجھ کر صاف اور معیاری ہو گئی؛ کوئی بھی شخص زبان پر کامل عبور کے بغیر مشاعرے میں غزل پڑھنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن یہ ایک دو دھاری تلوار تھی۔ زبان کی صحت اور قافیہ پیمائی پر اس قدر زور دیا گیا کہ خیال، مواد اور جذبے کی اہمیت کم ہو گئی۔ طرحی مشاعروں میں سارا زور ایک مشکل قافیے کو نبھانے پر صرف ہونے لگا۔ اعتراض کے خوف سے شعراء نئی باتیں کہنے سے کترانے لگے، کیونکہ بے باک سامعین برسرِ مشاعرہ ہی سند مانگنے لگتے تھے۔ اس طرح مشاعرہ ایک ادبی اکھاڑے میں تبدیل ہو گیا، جس نے زبان کو تو نکھارا لیکن تخلیقی پرواز کو روایتی پابندیوں کی زنجیر پہنا دی۔
