مشاعرہ محض چند شعراء کے اکٹھا ہو کر کلام سنانے کا نام نہیں، بلکہ یہ صدیوں پر محیط ایک ایسا تہذیبی ادارہ ہے جس نے مختلف ادوار میں مختلف معاشروں کی نفسیات اور سماجی حالات کے تحت اپنی شکلیں بدلی ہیں۔ سید احتشام حسین کے تجزیے کے مطابق، اگر ہم مشاعرے کی جڑوں کی تلاش کریں تو ہمیں دورِ جاہلیت کے عرب معاشرے کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ عربی شعراء بازاروں اور میلوں میں جمع ہوتے تھے اور اپنے فخریہ اور عشقیہ اشعار سنایا کرتے تھے۔ یہ اجتماعات اس وقت کی قبائلی زندگی اور عرب روح کی سچی نمائندگی کرتے تھے۔ ان محفلوں کی سب سے بڑی خصوصیت فی البدیہہ نظم گوئی تھی، جہاں شاعر اپنے قبیلے کی روایات کو ایک مجمع کے سامنے اس طرح پیش کرتا کہ سننے والے اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتے۔ جب کتابوں اور تحریر کا رواج کم تھا، اس وقت ان زبانی روایات اور شاعرانہ مقابلوں کی لسانی اور تہذیبی اہمیت غیر معمولی تھی۔
وقت کے ساتھ جب شاعری کا یہ ادارہ ایران پہنچا تو اس کی نوعیت میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ ایران کی ابتدائی شاعری میں باقاعدہ مشاعروں کا سراغ تو نہیں ملتا، لیکن شیخ سعدی کے زمانے تک شاعری درباروں سے وابستہ ہو چکی تھی۔ عرب کے آزاد اور قبائلی مشاعروں کے برعکس، ایرانی مشاعرے جاگیردارانہ تمدن اور درباری زندگی کے عکاس بن گئے۔ پندرہویں صدی میں شیراز اور دیگر ایرانی شہروں میں باضابطہ 'طرحی مشاعروں' کا رواج شروع ہوا۔ ان مشاعروں میں درباری مسابقت، معاصرانہ چشمکیں اور کسی ایک زمین پر طبع آزمائی کر کے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش نمایاں تھی۔ یہ وہ دور تھا جب صوفی شعراء کے علاوہ بیشتر ادیب اسی نظامِ زندگی اور فلسفے کی ترویج کر رہے تھے جو شاہی نظام کی بنیادوں پر استوار ہوا تھا۔
سولہویں صدی عیسوی میں جب ہندوستان میں مغل سلطنت کو عروج حاصل ہوا، تو ایران اور ہندوستان کے درمیان تہذیبی روابط اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ مغل دربار نے علم و حکمت اور شعر و ادب میں ایرانی اثرات کو دل کھول کر قبول کیا۔ ہمایوں، اکبر، خانِ خاناں اور حکیم فتح اللہ خاں شیرازی کی سرپرستی میں ایرانی شعراء کی ایک بڑی تعداد ہندوستان آئی۔ دکن میں گولکنڈہ اور بیجاپور کی ریاستوں نے بھی ان اہل قلم کو اپنے یہاں جگہ دی۔
ہندوستان میں فارسی شعر و ادب کا ایسا چرچا ہوا کہ خود ایران اس پر رشک کرنے لگا۔ اکبر اور خانِ خاناں کی فیاضی نے مغل دربار کو شیراز اور اصفہان کا ہم پلہ بنا دیا۔ بادشاہوں اور امراء کی سخاوت، مہمان نوازی اور ادب دوستی نے شعراء کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے۔ اگرچہ بعض بادشاہ انفرادی طور پر شاعری کے دلدادہ نہیں تھے، لیکن مشاعرہ ایک ایسی تہذیبی روایت بن چکا تھا جو اپنے بل بوتے پر آگے بڑھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ محمد شاہی دور میں، جب مغل سلطنت کا زوال شروع ہو چکا تھا، مشاعروں کی رونق میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا، اور اسی دور میں فارسی کے ساتھ ساتھ اردو (ریختہ) کے مشاعروں کی بنیاد بھی پڑی، جس نے برصغیر کی ادبی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
