ادب اور فنونِ لطیفہ میں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ فنکار ایک مکمل شاہکار تخلیق کر کے قاری یا ناظر کے حوالے کر دیتا ہے، اور قاری کا کام محض ایک بھکاری کی طرح اس جمالیاتی حظ کو اپنے کشکول میں سمیٹنا ہے۔ لیکن جدید جمالیاتی اور نفسیاتی تنقید اس تصور کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فن پارہ، چاہے وہ مصوری کا شاہکار ہو یا کوئی عظیم نظم، اپنے قاری کے بغیر نامکمل ہے۔ قاری محض ایک غیر فعال تماشائی نہیں، بلکہ وہ خود تخلیقی عمل کا ایک لازمی حصہ ہے۔
فنی تخلیق کا ایک امتیازی نشان یہ ہے کہ اس کا اندرونی ڈھانچہ پوری طرح ٹھوس یا ابھرا ہوا نہیں ہوتا۔ ایک اعلیٰ تخلیق میں جا بجا 'چاک' یا شگاف (Gaps) موجود ہوتے ہیں۔ یہ شگاف کوئی خامی نہیں، بلکہ تخلیق کے اسٹرکچر کا شعوری حصہ ہوتے ہیں۔ ایک عظیم فن پارہ اپنے قاری کو حسن کی خیرات نہیں دیتا، بلکہ اسے دعوت دیتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اس کے اندر موجود ان خالی جگہوں کو اپنے تخیل اور محسوسات سے بھر دے۔
اس عمل کو نفسیات اور جمالیات کی زبان میں 'Empathy' (ہمدردی یا دروں بینی) کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قاری فن پارے پر ترس کھاتا ہے، بلکہ وہ تخلیق کے اندر داخل ہو کر اس کے اسٹرکچر کے مطابق اپنے جذبات کو ڈھالتا ہے۔ کارل یونگ نے 'آرکی ٹائپ' (Archetype) کا جو تصور پیش کیا، وہ بھی اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے۔ آرکی ٹائپ اندر سے خالی سانچے ہوتے ہیں، جن میں جب انسانی محسوسات داخل ہوتے ہیں، تو وہ مخصوص پیکروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ فنی تخلیق بھی ایک ایسا ہی سانچہ ہے جسے قاری کے محسوسات مکمل کرتے ہیں۔
اس رشتے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے حیاتیاتی اور روحانی استعاروں کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں مرد اور عورت ایک ہی وجود کا حصہ تھے اور جدا ہونے کے بعد سے دوبارہ ایک ہونے کی آرزو میں سرگرداں ہیں، یا جس طرح تصوف میں 'جزو' اپنے 'کل' سے بچھڑ کر دوبارہ اس میں ضم ہونے کے لیے بے قرار رہتا ہے، بالکل یہی رشتہ قاری اور حسن کے درمیان ہے۔ قاری حسن کو ایک بند پیکٹ کے طور پر قبول نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کا حصہ بن کر اسے تکمیل تک پہنچاتا ہے۔
لہٰذا، جب ہم مصوری کے کسی شاہکار کو دیکھتے ہیں یا کسی نظم کو پڑھتے ہیں، تو ہم کینوس یا صفحے سے باہر نہیں کھڑے رہتے، بلکہ لپک کر اس کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ ہم اس کے حسن کو اپنے اندر اتارتے ہیں اور اپنے اندر کی دنیا کو اس فن پارے میں منعکس کرتے ہیں۔ قاری اور تخلیق کا یہ ملاپ ہی دراصل فن کی معراج ہے، جس کے بغیر ہر تخلیق محض ایک بے جان خاکہ ہے۔
