اردو غزل کی کلاسیکی تنقید میں کئی ایسی اصطلاحات موجود ہیں جنہیں آج ہم فراموش کر چکے ہیں، لیکن غزل کے فہم اور تنقید کے لیے ان کا ادراک بے حد ضروری ہے۔ ان میں سے دو سب سے اہم اصطلاحات 'کیفیت' اور 'معنی آفرینی' ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، جب تک ان اصطلاحات کے مفاہیم پوری طرح واضح نہ ہوں، ہم کلاسیکی غزل یا اس کے رنگ میں کہی گئی جدید غزل کی تفہیم نہیں کر سکتے۔
'کیفیت' سے مراد شعر کی وہ خوبی ہے جو فوری طور پر قاری یا سامع کو جذباتی سطح پر متاثر کرے (Emotional Response)۔ کیفیت کے اشعار میں عموماً معنی کی تہہ داری یا فکری گہرائی کم ہوتی ہے، لیکن ان کا تاثر اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ سیدھے دل پر اثر کرتے ہیں۔ پرانے زمانے کے اساتذہ کا قول تھا کہ 'شعرِ خوب معنی ندارد' (اچھے شعر میں معنی نہیں ہوتے)، جس کا اشارہ دراصل اسی 'کیفیت' کی طرف تھا۔ اس کی ایک بہترین مثال مصحفی کا یہ مشہور شعر ہے:
چلے بھی جا جرس غنچہ کی صدا پہ نسیم
کہیں تو قافلۂ نو بہار ٹھہرے گا
اس شعر میں کوئی گہرا فلسفہ یا معنی نہیں ہے، لیکن اس کی 'کیفیت' قاری کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
اس کے برعکس 'معنی آفرینی' وہ صفت ہے جہاں شعر میں فکری گہرائی، تہہ داری اور نئے مضامین کی تلاش ہوتی ہے۔ غالب کے اشعار عموماً معنی آفرینی کی بہترین مثال ہیں۔ غالب کے یہاں کیفیت کم اور معنی زیادہ ہوتے ہیں، ان کے اشعار ذہن کو اپیل کرتے ہیں اور غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
فاروقی صاحب کے نزدیک میر تقی میر کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ان کے یہاں 'کیفیت' اور 'معنی آفرینی' دونوں کثرت سے اور برابر پائی جاتی ہیں۔ میر بیک وقت دل اور دماغ دونوں کو مسخر کرتے ہیں۔
جدید دور میں فراق گورکھپوری کی کامیابی کا ایک بڑا راز بھی یہی 'کیفیت' ہے۔ فراق کے اشعار میں فنی خامیاں، حشو و زوائد اور عجزِ نظم پایا جاتا ہے، لیکن ان کے اشعار میں کیفیت اس قدر ہوتی ہے کہ قاری فوری طور پر متاثر ہو جاتا ہے اور شعر کے سقم نظر انداز کر دیتا ہے۔ غزل کی تنقید کرتے وقت یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کوئی شعر ہمیں اپنی 'کیفیت' کی وجہ سے پسند آ رہا ہے یا اپنی 'معنی آفرینی' اور فنی کمال کی وجہ سے۔
