ادب اور نفسیات کے تعلق پر غور کیا جائے تو سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ابھرتا ہے کہ تخلیقی کام کے ذریعے لکھنے والے کو ذاتی طور پر کتنی تسکین ملتی ہے؟ کیا واقعی ادب کی تخلیق فنکار کے درد کا مداوا ہے؟ ایک طویل عرصے تک نفسیاتی اور متصوفانہ تنقید میں یہ نظریہ مقبول رہا کہ تخلیق کے ذریعے ادیب کی شخصیت نشوونما پاتی ہے اور اس کی جبلتیں ارتفاع (Sublimation) کے عمل سے گزر کر ایک اعلیٰ شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ کارل یونگ کی نفسیات نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی، جس کے تحت یہ مانا جانے لگا کہ تخلیقی کام فنکار کی شخصیت کو مربوط اور متوازن بناتا ہے۔
تاہم، جب ہم فنکاروں کی حقیقی زندگی اور ان کی تخلیقات کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو یہ نظریہ اتنا سادہ اور سیدھا معلوم نہیں ہوتا۔ سگمنڈ فرائڈ، جس نے ارتقا اور لاشعور کے نظریات کی بنیاد رکھی، اپنے آخری دور میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ زندگی میں مکمل تسکین کا حصول ناممکن ہے۔ ہر چیز محض ایک بدل ہے، اور بعض اوقات زندہ رہنے کے لیے خود فریبی لازمی ہو جاتی ہے۔ فرائڈ کے اس متضاد اور پیچیدہ رویے کو مرزا غالب کے اس مشہور شعر میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے، جہاں موت اور صبح ایک ہی حقیقت کے دو رخ بن جاتے ہیں:
غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
اس شعر کے تناظر میں دیکھا جائے تو ادب اور فن بھی زندگی کے درد کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے، بلکہ یہ درد کو بھلانے یا اس کے ساتھ جینے کا ایک عارضی حیلہ ہیں۔ فرائڈ کے بعد ولہلم رائخ (Wilhelm Reich) جیسے ماہرینِ نفسیات نے ارتفاع کے نظریے پر کڑی تنقید کی۔ رائخ کا استدلال تھا کہ بنیادی حیاتیاتی جبلتوں (جیسے بھوک یا جنس) کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا۔ اگر ان کی براہ راست تسکین نہ ہو تو انسان جو بھی تخلیقی کام کرے گا، وہ 'ارتفاع' نہیں بلکہ محض ایک 'ردعمل' (Reaction Formation) ہوگا۔
ارتفاع کی حالت میں انسان اپنے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے، لیکن ردعمل کی حالت میں تخلیقی عمل ایک مجبوری اور اذیت بن جاتا ہے۔ تاریخِ ادب میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ فرانسیسی شاعر بودیلیئر (Baudelaire) کے لیے نظمیں لکھنا ایک عذابِ جان تھا۔ وہ خود کو کمرے میں بند کر کے شدید ذہنی اذیت کے بعد لکھتا تھا۔ اسی طرح ایڈگر ایلن پو اور مارسل پروست کا تخلیقی عمل بھی سکون آور نہیں بلکہ ایک شدید ردعمل کا نتیجہ تھا۔
یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارتفاع کی شاعری ردعمل کی شاعری سے لازمی طور پر بہتر ہوتی ہے؟ حقائق بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ بودیلیئر یا پروست جیسے فنکاروں نے اپنے شدید ذہنی کرب اور ردعمل کے باوجود ایسا عظیم ادب تخلیق کیا جس نے معاشرے کی حقیقتوں کو بے نقاب کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ادب کی تخلیق ہمیشہ فنکار کے لیے سکون کا باعث نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات یہ ایک ایسا بوجھ ہے جسے وہ اپنی ذات کی قیمت پر اٹھاتا ہے۔
