محمد حسن عسکری کے مضمون 'استعارے کا خوف' کا سب سے عمیق اور فلسفیانہ پہلو وہ ہے جہاں وہ استعارے کو انسانی وجود، کائنات اور عشق کے باہمی ربط سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک استعارہ محض روکھے پھیکے مضمون کو مزیدار بنانے کا آلہ نہیں، بلکہ یہ انسانی شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کا علاج ہے۔ جو شخصیت کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی ہو، شعور اور لاشعور، جسم اور دماغ، فرد اور جماعت کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے ہوں، ان سب کا وصال استعارے ہی کے وسیلے سے ممکن ہے۔ انسانی وجود اگر کہیں ایک مکمل وحدت کی شکل میں نظر آتا ہے، تو وہ استعارے میں ہے۔
عسکری صاحب مولانا روم کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جب عشق دل میں داخل ہوتا ہے تو خود پرستی بھاگ جاتی ہے۔ بالکل یہی حال استعارے کا ہے۔ خود پرستی اور استعارہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ استعارہ اپنے ذاتی تجربے اور خارجی اشیاء کے درمیان مناسبت ڈھونڈنے کا نام ہے۔ جو شخص اپنے آپ سے چپکا رہے اور خارجی کائنات کے احساس کو مصیبت سمجھے، وہ استعارے سے ہمیشہ گھبرائے گا۔ استعارے کے استعمال کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان میں خود پرستی کی تاریک کوٹھری سے نکل کر کائنات کی طرف بڑھنے کی ہمت پیدا ہو گئی ہے۔ اسی لیے عسکری صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ استعارہ صرف وہی استعمال کر سکتا ہے جو سچا عشق کر سکتا ہو۔
اس کی سب سے بڑی مثال شیکسپیئر کا ڈرامہ 'رومیو اینڈ جولیٹ' ہے۔ رومیو جب جولیٹ کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے، تو دنیا کی ہر بھونڈی سے بھونڈی چیز بھی اس کے لیے محبت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ اس کا عشق کوئی روکھا پھیکا مضمون نہیں تھا جسے وہ استعاروں سے سجا رہا ہو، بلکہ عشق ہوتے ہی اس کی خود پرستی اس طرح ختم ہوئی کہ وہ کائنات کی حقیر ترین چیز کو بھی گلے لگانے لگا۔ استعارے کی شرط ہی یہ ہے کہ انسان کائنات کی بدصورت چیز کو بھی اپنے اندر جذب کرے اور خود اس میں جذب ہو جائے۔ استعارہ انسان اور کائنات کو ایک دوسرے میں معدوم کرنے اور ایک عظیم وحدت کا جزو بنانے کا وسیلہ ہے۔
عشق کے علاوہ استعارے کے لیے انسان میں انکسار کی صفت کا ہونا بھی لازمی ہے۔ استعارہ تخلیق کرنے والے کو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کائنات میں بیک وقت وجود کے کئی اصول کارفرما ہیں، جن میں اختلاف بھی ہے اور مماثلت بھی۔ مثال کے طور پر، فرانسیسی ناول نگار بالزاک نے پیرس کی عمارتوں کو روس کی گھاس کے میدانوں سے اور سڑک کے کرپکوں کو سمندر کی بپھری لہروں سے تشبیہ دی۔ بظاہر یہ باتیں بعید از فہم ہیں، لیکن بالزاک نے استعارے کے ذریعے فطرت اور شہر کی مصنوعی زندگی کے متضاد اصولوں کو یکجا کر کے ایک نئی حقیقت دریافت کی۔ اسی طرح مارسل پروست نے ہوٹل کے میزپوشوں کو قربان گاہ کے غلافوں سے تشبیہ دے کر دنیاوی زندگی اور مذہب کے متضاد رویوں کو ایک ہی استعارے میں سمو دیا۔
یہ وہ گہری اور کائناتی حقیقتیں ہیں جنہیں 'اصل زبان' یا سیدھی سادی منطقی نثر میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ استعارے سے جھجکتے ہیں، وہ دراصل زندگی کی ان عظیم الشان قوتوں سے ڈرتے ہیں۔ ان میں تجربے کی نئی حقیقتوں کو جذب کرنے کی ہمت نہیں ہوتی، اس لیے وہ ہر غیر منطقی بات سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ استعارہ چونکہ اپنے ساتھ غیر منطقی اور بعید از فہم تجربات لاتا ہے، اس لیے تنگ نظروں کے لیے یہ واقعی ڈرنے کی چیز ہے۔ لیکن ایک سچے فنکار کے لیے، استعارہ کائنات سے ہمکنار ہونے اور زندگی کے نشاط و غم کو پوری شدت سے محسوس کرنے کا واحد راستہ ہے۔
