استعارہ: کائنات سے عشق اور خود پرستی کی نفی
استعارے کا استعمال محض ایک ادبی حربہ نہیں، بلکہ یہ خود پرستی کے خول سے نکل کر کائنات کی رنگارنگی، تضادات اور وسعتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کا ایک صوفیانہ اور عاشقانہ عمل ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
استعارے کا استعمال محض ایک ادبی حربہ نہیں، بلکہ یہ خود پرستی کے خول سے نکل کر کائنات کی رنگارنگی، تضادات اور وسعتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کا ایک صوفیانہ اور عاشقانہ عمل ہے۔