اردو زبان کی ابتدا اور اس کی لسانی حیثیت کے حوالے سے اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بعض حلقے اسے محض مسلمانوں کی یا عربی و فارسی کی ایک شاخ سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ ممتاز نقاد اور ماہرِ تعلیم آل احمد سرور اس نظریے کی پرزور تردید کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ اردو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے جس کی جڑیں ہندوستان کی مٹی میں پیوست ہیں۔ اس کی بنیاد کھڑی بولی پر استوار ہے، جو اس خطے کی عوامی زبان رہی ہے۔
زبان کے ذخیرۂ الفاظ کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اردو میں عربی، فارسی اور ترکی کے الفاظ کی تعداد ایک چوتھائی سے زیادہ نہیں ہے۔ باقی تین چوتھائی الفاظ یا تو خالص دیسی (ہندوستانی) ہیں یا دیسی الفاظ کے ملاپ سے وجود میں آئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں انگریزی اور ہندی کے الفاظ بھی کثیر تعداد میں شامل ہو گئے ہیں، جو کسی بھی زندہ اور متحرک زبان کے لیے ایک فطری عمل ہے۔ سرور صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو عربی یا فارسی الفاظ اردو میں رائج ہو چکے ہیں، وہ اب غیر ملکی نہیں بلکہ خالص اردو کے الفاظ بن چکے ہیں۔
اردو کی اس ہندوستانی بنیاد کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس کے پورے لسانی سرمائے کو اپنانا ہوگا۔ کبیر داس، میرا بائی، سور داس، تلسی داس اور بابا نانک کا کلام اسی قدیم اردو یا ہندوی کا حصہ ہے جس سے جدید اردو نے جنم لیا۔ اگر اردو والے اس مشترکہ سرمائے کو اپنا لیتے، تو کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی کہ اردو کو دانستہ طور پر ہندی کی شاہراہ سے ہٹا کر عربی و فارسی کے کوہستانوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
زبان کے معاملے میں 'خواص پرستی' یا قدامت پسندی ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح جدید ہندی میں سنسکرت کے ثقیل الفاظ (تتسم) ٹھونسنا الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے، اسی طرح اردو میں عربی و فارسی الفاظ کو ان کے اصل تلفظ کے ساتھ بولنے پر اصرار کرنا بھی زبان کی فطرت کے خلاف ہے۔ جب کوئی لفظ ہندوستان میں صدیوں سے بولا جا رہا ہے، تو اس کا تلفظ مقامی اثرات قبول کر لیتا ہے۔
آل احمد سرور کا یہ موقف ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اردو کو 'اردوئے معلیٰ' کے خول سے باہر نکال کر اس کی عوامی اور ہندوستانی روح کو پہچانیں۔ زبان کے قواعد، افعال، حروفِ جار اور ضمائر سب کے سب ہندوستانی ہیں۔ جب تک ہم اردو کی اس دھرتی سے جڑی شناخت پر فخر نہیں کریں گے، ہم اس زبان کی حقیقی وسعت اور اس کے ہمہ گیر مزاج کو نہیں سمجھ سکیں گے۔
