انتظار حسین کے ذہنی و تخلیقی سفر کی چوتھی جہت ان کے فن کو ایک نئی اور حیرت انگیز وسعت عطا کرتی ہے۔ اس دور میں وہ عہدِ وسطیٰ کے داستانوی انداز سے بھی پیچھے جا کر عہدِ قدیم کی مختلف النوع اساطیری روایتوں کو باہم آمیز کرتے ہیں۔ وہ زندگی کی صداقتوں کو بیک وقت بودھ، اسلامی، اور قبل از اسلام کی اساطیری روایتوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے افسانے 'کچھوے'، 'واپس' اور 'کشتی' اس نئے رجحان کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔
'واپس' اور 'کچھوے' کی بنیاد بودھ جاتکوں پر رکھی گئی ہے۔ ان میں زبان بھی پراکرتوں کا عنصر لیے ہوئے ہے جس سے قدیم عہد کی فضا سازی میں مدد ملتی ہے۔ 'واپس' میں تتھاگت بھکشوؤں کو بنارس کے مرگھٹ کے کتوں اور راج محل کے کتوں کی جاتک سناتے ہیں، جس کے ذریعے جدید دور کے انسان کے نیائے (انصاف) اور انیائے (ناانصافی) میں تمیز کھو دینے پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ انسان جو بظاہر آدمی دکھائی دیتا ہے، اندر سے لذتوں اور خود غرضیوں کا شکار ہو کر کتے سے بھی بدتر ہو چکا ہے۔
اس دور کی سب سے شاہکار اور پیچیدہ تمثیلی کہانی 'کشتی' ہے۔ اس میں قدیم سامی، اسلامی روایتوں اور ہندوستانی دیومالائی حکایتوں کو تخلیقی طور پر مربوط کر کے افسانوی تکنیک کا ایک ایسا تجربہ کیا گیا ہے جس کی نظیر اردو میں نہیں ملتی۔ اس کہانی میں مسئلہ نسلِ انسانی کی تباہی و بربادی اور اس کی بقا (Survival) کا ہے۔ انتظار حسین نے طوفانِ نوح، گلگامش کی اساطیر اور ہندو دیومالا کے 'منو' اور 'مہاپرلے' (سیلابِ عظیم) کی روایات کو ایک ساتھ گوندھ دیا ہے۔
روایتی قصوں میں طوفان کے بعد فاختہ زیتون کی شاخ لاتی ہے جو سلامتی اور خشکی کی نوید ہوتی ہے، اور منو کی کشتی کو مچھلی ہمالیہ کی چوٹی پر محفوظ کر دیتی ہے۔ لیکن انتظار حسین نے جدید عہد کے کرب کو ظاہر کرنے کے لیے اساطیر کو الٹ دیا ہے۔ ان کی کہانی میں بلی، فاختہ اور زیتون کی پتی دونوں کو چٹ کر جاتی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آج کے انسان کے لیے سلامتی اور عافیت کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔
آج کا انسان طوفانِ بلا کی زد میں ہے اور اس کا دل و دماغ عقیدوں سے خالی ہے۔ نہ گلگامش ہے، نہ نوح، نہ منو اور نہ ہی حاتم طائی جو اسے اس بھنور سے نکال سکے۔ ارتقائے انسانی نے سب روحانی سہارے کھو دیے ہیں۔ انتظار حسین نے ان تمام اساطیری روایتوں کو جدید فکر سے آمیز کر کے یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ زمین و زماں کے جبر کا مقابلہ کرنے کے تمام وسیلے کھو دینے کے بعد، کیا جدید انسان کی ڈولتی ہوئی کشتی کبھی کنارے لگے گی؟
