انتظار حسین کے فن میں ایک بنیادی تبدیلی چھٹی دہائی کے لگ بھگ پیدا ہوئی۔ وہ افسانہ نگار جو اب تک فوری ماضی کی پرچھائیوں اور تقسیم کے معاشرتی المیے کے بارے میں سیدھی سادی کہانیاں لکھ رہا تھا، اب وجودی مسائل پر سوچنے پر مجبور ہوا۔ اب ان کی نظر خارج سے باطن کی طرف راجع ہوئی۔ سیدھی سادی بیانیہ کہانی اب تمثیلی کہانی اور اس کی معنیاتی تہہ داری کو راہ دینے لگی۔ یہ وہ دور ہے جہاں مشاہدے کی منزل سے نکل کر ان کا فن مراقبے کی طرف مڑتا ہے، اور وہ انسان کے اخلاقی اور روحانی زوال کو گرفت میں لیتے ہیں۔
ان کے مجموعے 'آخری آدمی' سے ان کا تمثیلی دور شروع ہوتا ہے۔ اس دور کی کہانیوں میں انسان کی روحانی اور اخلاقی کشمکش اور اس پر جبلی قوتوں کے دباؤ کو نہایت اچھوتے پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ 'آخری آدمی' ان انسانوں کے بندر بن جانے کی کہانی ہے جو سبت کے دن مچھلیاں پکڑتے تھے اور اپنی حرص و ہوس کی تسکین کرتے تھے۔ لالچ، مکر، خوف اور غصے کے منفی جذبات کے باعث وہ اعلیٰ انسانی سطح سے حیوانی سطح پر اتر آئے۔ الیاسف، جو آخری آدمی ہے، لاکھ کوشش کے باوجود اپنی سرشت اور جبلی دباؤ (جیسے بنت الاخضر کی جنسی کشش) سے نہیں بچ پاتا اور بالآخر وہ بھی بندر بن جاتا ہے۔
اسی طرح ان کی شاہکار کہانی 'زرد کتا' میں بزرگانِ دین کے ملفوظات اور داستانوں کی زبان کا نیا تخلیقی استعمال ملتا ہے۔ اس کہانی میں 'زرد کتا' انسان کے نفس اور جبلتوں کے اس نظام کی علامت ہے جو انسان کو مسلسل کشمکش میں مبتلا رکھتا ہے۔ صوفیا اور مریدانِ باصفا ایک ایک کر کے حرص و آز اور طمعِ دنیا کا شکار ہوتے ہیں۔ زرد کتا انسانی نفس کی خارجی صورت ہے؛ اسے بھگانے کی جتنی کوشش کی جائے، وہ دامن میں چھپ کر غائب ہو جاتا ہے اور بالآخر انسان پر غلبہ پا لیتا ہے۔ یہ کہانی ہوس پرستی سے پیدا ہونے والے روحانی انحطاط کی لرزہ خیز سرگزشت ہے۔
خوف اور دہشت کی نفسیات کو انہوں نے 'کایا کلپ' جیسی کہانیوں میں پیش کیا ہے، جس کی فضا داستانوں جیسی ہے۔ شہزادہ آزاد بخت سفید دیو کے خوف اور دہشت کے دباؤ سے سکڑتے سکڑتے ایک مکھی بن جاتا ہے۔ یہ کہانی اس بات کی غماز ہے کہ جب خارجی قوتوں کا دباؤ حد سے بڑھتا ہے تو انسان اپنی حیوانی اصل کی طرف پلٹتا ہے اور اس کی شخصیت پچک کر معدوم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی 'آدمی والی بو' بھی ختم ہو جاتی ہے۔
انتظار حسین کے یہ افسانے آج کے خوف زدہ اور بے یقین انسان کی نفسیات کا عکس ہیں۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ انسان بنے رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شناخت کریں اور ذات سے عاری نہ ہو جائیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے آج کے انسان کے اخلاقی زوال کی کڑیوں کو اس طرح ملایا ہے کہ قاری کو اپنے اندر کی مکھی، زرد کتا، بندر یا بکرے کی ٹانگیں صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔
