ادب اور آرٹ میں فحش اور غیر فحش کی بحث اکثر اس نکتے پر آ کر الجھ جاتی ہے کہ آیا کسی فن پارے میں لذت کا اظہار ہے یا ترغیب کا عنصر۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ جنس کے ذکر میں لذت یا ترغیب نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن محمد حسن عسکری اس نظریے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ جب ہم کسی خوبصورت منظر، چہرے یا لباس کو مزے لے کر بیان کر سکتے ہیں، تو انسانی جسم یا جنسی فعل کو بیان کرنے میں کیا بنیادی نقص ہے؟ دراصل یہ اعتراض اس روایتی ذہنیت کی پیداوار ہے جو جسمانی افعال کو بنفسہ گندہ اور پلید سمجھتی ہے۔
اصل سوال ترغیب یا غیر ترغیب کا نہیں، بلکہ 'آرٹ' اور 'غیر آرٹ' کا ہے۔ غیر آرٹ کو عسکری صاحب 'جذباتیت' کا نام دیتے ہیں۔ یہ جذباتیت نفس پرستی، اخلاق پرستی یا انقلاب پرستی، کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے۔ جب ہم کسی فن پارے کی پیچیدگی کو نظر انداز کر کے صرف اس کے ایک رخ کو پکڑ لیتے ہیں، تو وہیں سے جذباتیت جنم لیتی ہے جو اچھے خاصے فن پارے کو فحش یا خشک اخلاقی وعظ بنا دیتی ہے۔
آرٹ کوئی انجکشن نہیں ہے جو ہمارے اندر نئے جذبے داخل کرے۔ ارسطو کے نظریے کے مطابق، آرٹ میں ایک جلابی کیفیت (Katharsis) ہوتی ہے جو ہمارے جذبات سے فالتو اور فاسد مادوں کو خارج کر کے ہمارے اندر توازن اور سکون قائم کرتی ہے۔ جذباتیت کی کوئی حد نہیں ہوتی، جبکہ آرٹ جذبات کی حد بندی کرتا ہے، ان کی تنظیم کرتا ہے اور انہیں ایک خاص ترتیب دیتا ہے۔ عظیم آرٹ دیکھنے یا پڑھنے کے بعد انسان کے اندر شہوت نہیں بھڑکتی، بلکہ وہ اپنے جذبات میں ایک بہتر توازن اور ارتفاع محسوس کرتا ہے۔
عظیم فنکار جب جنس کا ذکر کرتا ہے تو اس میں ایک معصومیت اور ذہنی لطافت ہوتی ہے۔ اس توازن اور ارتفاع کی بہترین مثال فراق گورکھپوری کا یہ مشہور شعر ہے، جس میں جنسی عمل کے بعد کا سکون اور روحانی قربت بیان کی گئی ہے:
ملے دیر تک ساتھ سو بھی چکے
بہت وقت ہے آؤ باتیں کریں
یہ شعر ثابت کرتا ہے کہ فن کا تناسب بذات خود ایسی چیز ہے جو بظاہر مادی یا جنسی بات کو بھی ایک لطیف اور بے ضرر جمالیاتی تجربے میں بدل دیتا ہے۔ اگر آرٹ ہمارے اندر کوئی جذبہ پیدا کرتا ہے تو وہ 'تحیر' کا جذبہ ہے۔ جو شخص آرٹ کے اس حقیقی مزے اور تحیر سے واقف ہو جاتا ہے، اس کے لیے فحش اپنے آپ پھسپھسا اور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
