انتظار حسین کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو افسانے کی مروجہ مغربی ہیئت کو جوں کا توں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ناول اور افسانے کی مغربی ہیئتوں کی بہ نسبت داستانوی انداز ہمارے اجتماعی لاشعور اور مزاج کا کہیں زیادہ ساتھ دیتا ہے۔ برصغیر میں کہانی کی روایت دراصل 'کتھا' کی روایت ہے، جو سننے اور سنانے کی چیز ہے۔ بیسویں صدی میں افسانہ محض ایک تحریری صنف بن کر رہ گیا تھا، لیکن انتظار حسین نے باصرہ (دیکھنے) کے ساتھ سامعہ (سننے) کو پھر سے بیدار کیا۔
انہوں نے داستانوں کی فضا کو نئے احساس اور نئی آگہی کے ساتھ کچھ اس طرح برتا کہ اردو افسانے میں ایک نیا فلسفیانہ مزاج اور ایک نئی اساطیری و داستانی جہت سامنے آ گئی۔ عہدنامہ قدیم، اساطیر، جاتک اور دیومالا کی مدد سے ان کو استعاروں، علامتوں اور حکایتوں کا ایسا خزانہ ہاتھ آ گیا جس سے وہ پیچیدہ سے پیچیدہ خیال اور باریک سے باریک احساس کو سہولت کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں ایسی سادگی اور تازگی ہے جس کی کوئی نظیر اس سے پہلے اردو افسانے میں نہیں ملتی۔
اس داستانی اسلوب کا پہلا باقاعدہ تجربہ ان کی کہانی 'جل گرجے' میں ملتا ہے، جہاں حکیم جی اپنے دوستوں کو گزرے زمانوں کے قصے سناتے ہیں۔ اس کہانی میں جنگِ آزادی (غدر) اور جنرل بخت خاں کی شجاعت کا ذکر ایک خاص داستانوی اور رزمیہ آہنگ میں کیا گیا ہے۔ اس موقع پر موضوع کی سماں بندی کے لیے لوک روایت کا یہ مصرعہ استعمال کیا گیا ہے:
ندی نربدا کا جل گرجے، گرجے گنگا کی دھار۔۔۔
یہ مصرعہ محض ایک شعری ٹکڑا نہیں بلکہ اس پوری تہذیبی اور رزمیہ فضا کو بیدار کر دیتا ہے جو داستانوں کا خاصہ ہے۔ 'جل گرجے' میں داستانی انداز کو اپنانے کی جو بشارت ملتی ہے، وہ بعد ازاں 'آخری آدمی' اور 'شہر افسوس' کی کہانیوں میں ذہن و روح کو سرشار کرنے والی صداقت بن کر سامنے آتی ہے۔
انتظار حسین نے مکالماتی بنت، حیرت و استعجاب کی فضا، اور 'کہانی کے اندر کہانی' کی تکنیک کو استعمال کر کے افسانے کو متصوفانہ اور فلسفیانہ جستجو (Mystical Quest) سے آشنا کرایا۔ انہوں نے مقامی سانچوں (Indigenous Models) کی دانش و حکمت کے جوہر کو گرفت میں لے کر مروجہ سانچوں کی تقلیب کی اور اردو فکشن کو ایک نیا ذائقہ دیا۔ ان کا یہ تمثیلی اور داستانی اسلوب محض ماضی کی نقالی نہیں، بلکہ جدید دور کی افسردگی، بے دلی اور کشمکش کو تخلیقی لگن کے ساتھ پیش کرنے کا ایک نہایت موثر اور منفرد آلہ ہے۔
