اردو ادب میں سعادت حسن منٹو کا مقام متعین کرتے ہوئے محمد حسن عسکری ایک انتہائی اہم اور بنیادی سوال اٹھاتے ہیں: کیا منٹو کا موازنہ موپاساں جیسے عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگاروں سے کیا جا سکتا ہے؟ عسکری صاحب کا جواب اثبات میں ہے، لیکن وہ ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر منٹو موپاساں سے نثر میں پیچھے رہ گیا تو اس میں منٹو کا نہیں بلکہ اردو کی ادبی روایت کا قصور تھا۔ فرانس میں موپاساں کے پیچھے دو سو سالہ نثر کی ایک مضبوط روایت موجود تھی، جبکہ منٹو کو اپنے اظہار کے لیے خود اپنا کنواں کھودنا پڑا۔
منٹو نے جو کنواں کھودا، چاہے اس کا پانی گدلا یا کھاری ہی کیوں نہ ہو، اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے نہ صرف کنواں کھودا بلکہ اس میں سے پانی نکال کر بھی دکھایا۔ اردو کے بہت کم ادیبوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ منٹو نے موضوع اور ہیئت، دونوں اعتبار سے اردو افسانے میں ایک پیش رو (Pioneer) کا کردار ادا کیا۔ اس نے ان موضوعات کو چھوا جن کے قریب پھٹکنے سے بھی اس وقت کا ادیب گھبراتا تھا۔
منٹو پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ سستی شہرت کے لیے قاری کو 'چونکانے' (Shock value) کا سہارا لیتا تھا۔ عسکری صاحب اس اعتراض کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قاری کو چونکانا ادیب کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ اگر معاشرہ غفلت کی نیند سو رہا ہو، منافقت کو اوڑھ بچھونا بنا چکا ہو، تو اسے میٹھی لوریوں سے نہیں جگایا جا سکتا۔ بودیلیر جیسے عظیم فرانسیسی شاعر کا تو اصول ہی یہ تھا کہ متوسط طبقے کو چونکایا جائے۔ عسکری صاحب کے نزدیک چونکانے سے ڈرنا دراصل ایک ذہنی بیماری اور کمزور شخصیت کی علامت ہے۔
تاہم، عسکری صاحب یہ شرط ضرور عائد کرتے ہیں کہ چونکانے کے بعد ادیب قاری کو کیا دکھاتا ہے؟ اگر منٹو نے ہمیں جھنجھوڑ کر جگانے کے بعد محض اندھیرے میں چھوڑ دیا ہوتا تو وہ یقیناً مجرم تھا۔ لیکن 'نیا قانون'، 'ہتک'، اور 'بابو گوپی ناتھ' جیسے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ منٹو نے ہمیں چونکا کر انسانی فطرت اور معاشرے کے وہ تماشے دکھائے جنہوں نے ہمارے اندر زندگی کا ایک نیا شعور بیدار کیا۔ اس نے ہماری نیندیں ضرور حرام کیں، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں حقیقت شناسی کی وہ بینائی عطا کی جو اس سے پہلے اردو ادب میں مفقود تھی۔
دراصل، منٹو جیسے فنکار عام انسانوں کے لیے ایک 'سپر' (ڈھال) کا کام کرتے ہیں۔ زندگی کی جن زہرہ گداز اور ہولناک حقیقتوں کا سامنا عام انسان نہیں کر سکتا، فنکار انہیں اپنے اعصاب پر برداشت کرتا ہے اور ہمیں ان کے شعور سے روشناس کراتا ہے۔ منٹو کی موت سے اردو ادب کا قاری اس ڈھال سے محروم ہو گیا، اور اب شعور کی بلاؤں کا سامنا ہمیں خود کرنا ہے۔ منٹو کا فن ہمیں اسی کرب اور آگہی کے سفر پر لے جاتا ہے۔
