فنونِ لطیفہ، بالخصوص مجسمہ سازی میں عریانی کا مسئلہ ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔ عام ناظر اکثر مجسموں میں صرف ظاہری برہنگی دیکھتا ہے، جبکہ فنکار کا مقصد اس مادے (پتھر یا کانسی) کے اندر سے زندگی، حرکت اور روحانیت کو ابھارنا ہوتا ہے۔ محمد حسن عسکری کے مطابق، مجسمہ سازی میں جنسی اعضاء کی شمولیت محض جسمانی اعضاء کی نمائش نہیں، بلکہ فن پارے کی وحدت اور مرکزی جذبے کے اظہار کا ایک لازمی حصہ ہے۔
مائیکل اینجلو کی مشہور تصویر یا مجسمہ 'تدفین' اس کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ کو بالکل برہنہ دکھایا گیا ہے۔ اس کا مقصد موت کے اثر کو جسم کے ہر حصے سے ظاہر کرنا تھا۔ چہرے پر انتہائی سکون اور روحانیت طاری ہے۔ مائیکل اینجلو کو یقین تھا کہ جنسی حصے عریاں کر دینے سے اس روحانی جمال پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا۔ اگر اس کا ذرا سا بھی شائبہ ہوتا تو وہ کبھی عریانی پسند نہ کرتا۔ یہ فنکارانہ احساس ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس جگہ عریانی موزوں ہے اور کہاں ناموزوں، تاکہ نظریں کسی ایک مقام پر اٹکنے کے بجائے پورے فن پارے کے تاثر کو قبول کریں۔
اسی طرح آگستے روڈن (Rodin) کے مجسمے 'کانسی کا دور' (Bronze Age) پر غور کریں۔ یہاں انسان کے اندر فطرت کا احساس پیدا ہوتا ہوا دکھایا گیا ہے، جو پیروں سے سر تک چڑھتا چلا گیا ہے۔ اگر اس مجسمے کو کپڑے پہنا دیے جاتے، یا بیچ میں ذرا سی دھجی رکھ دی جاتی، تو لائنوں کا تسلسل ٹوٹ جاتا اور احساس کی روانی وہیں دم توڑ دیتی۔ عریانی کی بدولت شدتِ تاثر اور ہم آہنگی کا یہ عالم ہے کہ معلوم ہوتا ہے سارا احساس کھنچ کر سر اور بندھی ہوئی مٹھی میں آ گیا ہے، گویا روح ایک نقطے پر جل اٹھی ہے۔ یہاں جسم اور روح کا فرق مٹ جاتا ہے۔
جدید دور میں جیکب ایپسٹائن (Epstein) کے مجسموں 'پیدائش' اور 'آدم' کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں فحش کہا گیا۔ لیکن ایپسٹائن نے دراصل جنسیت کی بنیادوں تک پہنچ کر انسان کی ہمیشہ ترقی کرتے رہنے کی لگن اور مشکلوں سے مقابلے کی جرات دکھائی ہے۔ اس نے پتھر کو اوپر سے توڑنے مروڑنے کے بجائے اس کے اندر سے ایک اینٹھن اور قوت پیدا کی ہے۔ ان مجسموں میں یہ اشارہ پوشیدہ ہے کہ جنس انسان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ مددگار ہے، اور اس کی پرورش بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی ذہنی اور روحانی صلاحیتوں کی۔
