زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک پوری تہذیب، تاریخ اور احساسات کا زندہ وجود ہوتی ہے۔ جب کوئی زبان اپنے ارتقائی سفر میں کچھ الفاظ یا اسالیب کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے، تو وہ محض الفاظ نہیں مرتے، بلکہ ان کے ساتھ جڑے ہوئے احساسات اور تصورات بھی دفن ہو جاتے ہیں۔ انتظار حسین نے اس عمل کو ایک نہایت خوبصورت استعارے سے واضح کیا ہے: "ہر متروک لفظ ایک گمشدہ شہر ہے اور ہر متروک اسلوبِ بیان ایک چھوڑا ہوا علاقہ۔"
اردو کی پرانی داستانوں اور کلاسیکی شاعری میں جو رنگارنگ اسالیب اور ان گنت الفاظ نظر آتے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو زبان اپنے اندر ایک پورا 'غرق شدہ براعظم' چھپائے بیٹھی ہے۔ یہ گمشدہ زبان دراصل ہماری تہذیب کا لاشعور ہے۔ جدید دور کے لکھنے والوں، خاص طور پر ناصر کاظمی، ابنِ انشا اور شہرت بخاری نے جب غزل میں قدم رکھا، تو انہوں نے اپنے پیشروؤں کی دھوئی مانجھی اور جدید بنائی گئی زبان سے بغاوت کی۔ انہوں نے ناسخ سے لے کر حسرت موہانی تک کی تعلیمات کو فراموش کر کے متروک الفاظ اور عاق کیے ہوئے لہجوں کو بلا تکلف برتنا شروع کیا۔
یہ پرانے الفاظ اور اسالیب کا استعمال کوئی فیشن یا شوقیہ عمل نہیں تھا۔ انتظار حسین کے مطابق، یہ نئے لکھنے والے دراصل اپنی کھوئی ہوئی روح کو ڈھونڈ رہے تھے۔ کچھ کھو جانے، غریب ہو جانے اور ادھورا رہ جانے کا احساس آج کی غزل کا بنیادی احساس ہے۔ جب یہ شاعر متروک الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو وہ دراصل احساسات کے ان گمشدہ سانچوں کی بازیافت کر رہے ہوتے ہیں، تاکہ اپنی ذات کے کھوئے ہوئے حصوں کو دوبارہ جوڑ سکیں۔
اس عہد کے شاعروں کے لیے ماضی کوئی واضح اور متعین رشتہ نہیں رہا تھا، بلکہ یہ رشتوں کا ایک ایسا گچھا بن چکا تھا جس کے سرے ہاتھ میں آ کر پھسل جاتے تھے۔ اسی لیے ان کے ہاں ماضی اور حال ایک ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناصر کاظمی کا یہ شعر اسی دوہری کیفیت اور ماضی کی مسلسل ہمراہی کا عکاس ہے:
ہر قدم شوق بھی ہے منزل کا
ہر نفس یادِ رفتگاں بھی ہے
ماضی سے رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد، اسے تلاش کرنا ایک درد بھرا عمل بن جاتا ہے۔ یہ شاعر اس گمشدہ براعظم کی خاک چھانتے ہیں، اس امید پر کہ شاید کہیں سے ان کے بچھڑے ہوئے لوگوں اور تہذیب کا کوئی نشان مل جائے۔ اسی اداسی اور موہوم سی امید کو ناصر کاظمی نے یوں بیان کیا ہے:
مل ہی جائے گا رفتگاں کا سراغ
اور کچھ دن پھرو اداس اداس
غرض، جدید اردو ادب میں متروک الفاظ کا استعمال محض لغت کی ورق گردانی نہیں، بلکہ یہ اس غرق شدہ براعظم میں غوطہ زنی ہے جہاں ہماری تہذیب کی جڑیں، ہمارے آباؤ اجداد کے خواب اور ہماری اجتماعی ذات کے گمشدہ حصے آج بھی محفوظ ہیں۔
